ٹرمپ کے ہوائی قلعے اور سمندر کے تلخ حقائق: ‘سند یافتہ چھڈو’ کے خطاب کا مکمل پوسٹ مارٹم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ترین “شاہی خطاب” دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وائٹ ہاؤس اب صرف ایک سیاسی دفتر نہیں بلکہ “کامیڈی کلب” بن چکا ہے۔

حریر و تجزیہ: ملک توصیف احمد ( اردو پوائنٹ پریس)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ترین “شاہی خطاب” دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے وائٹ ہاؤس اب صرف ایک سیاسی دفتر نہیں بلکہ “کامیڈی کلب” بن چکا ہے۔ موصوف نے 33 دن کی نام نہاد جنگ کے بعد جو دعوے کیے ہیں، وہ زمینی حقائق کے تھپڑوں سے سرخ ہو رہے ہیں۔ آئیے، اس “اعلیٰ حضرت” کی تقریر کا وہ پوسٹ مارٹم کرتے ہیں جو تاریخ کے کسی بنکر میں بھی نہیں ملے گا۔
آغاز سے پہلے کی ‘بڑک’: یورینیم کا جادوئی خاتمہ؟
جنگ شروع ہونے سے پہلے ٹرمپ صاحب نے سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ “ہم نے ایران کا تمام افزودہ یورینیم نیست و نابود کر دیا ہے”۔ لیکن آج کے خطاب میں وہ پھر اسی یورینیم کا رونا رو رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹم: جنابِ صدر! اگر یورینیم ختم ہو گیا تھا تو کیا ایران نے اسے “اوون” میں رکھ کر دوبارہ پھلا لیا ہے؟ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس نہ کل کوئی ٹھوس اطلاع تھی اور نہ آج کوئی سچائی۔ یہ صرف “یورینیم پاپ کارن” کی کہانی ہے جو آپ اپنی مرضی سے بناتے اور مٹاتے ہیں۔
دورانِ خطاب: ‘منٹوں میں فتح’ اور ‘پتھر کا زمانہ’
ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے وینزویلا کو “منٹوں” میں فتح کر لیا اور مادورو کو “اٹھا” لیا، دراصل ان کی نفسیاتی پستی کا ثبوت ہے۔ ایک نہتے اور معاشی طور پر کمزور ملک کے صدر کو اٹھا لینا ایسے ہی ہے جیسے راہ چلتے کسی بچے سے ٹافی چھین لینا۔ لیکن حیرت ہے کہ 33 دن گزرنے کے باوجود آپ ایران کے کسی “سائے” کو بھی نہیں چھو سکے۔ آپ دور سے “ہوائی فائرنگ” کر کے دھمکا رہے ہیں کہ “میں نے اسے تھپڑ مارے تھے”، لیکن سامنے جب “بڑی رائفل” والا ایران کھڑا ہوا تو آپ کی آواز لڑکھڑا گئی۔
بحریہ کی ‘تباہی’ اور آبنائے ہرمز کا معمہ
علیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ “ایرانی بحریہ اب قصہ پارینہ بن چکی ہے”۔پوسٹ مارٹم: اگر بحریہ تباہ ہو گئی ہے تو آبنائے ہرمز ابھی تک بند کیوں ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ایران نے اپنی بحریہ کو “تباہ” نہیں ہونے دیا بلکہ اسے سمندر کی تہوں میں “گوریلا وارفیئر” کے لیے چھپا دیا ہے۔ آپ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں جبکہ ایران آپ کی رائفل کی نالی میں “ریت” بھر چکا ہے۔ 33 دن میں ایک بحری راستہ نہ کھلوا پانا آپ کی “سپر پاور” کی ہوا نکالنے کے لیے کافی ہے۔
چینی سایا اور امریکی غبارے کی آخری ہوا
رمپ صاحب جس “پتھر کے زمانے” کی بات کر رہے ہیں، وہاں تک پہنچنے کے لیے انہیں پہلے اس چینی ٹیکنالوجی سے ٹکرانا ہوگا جو ایرانی میزائلوں کی شکل میں ان کے بی ٹو (B2) بمباروں کا انتظار کر رہی ہے۔ پاکستان کی حالیہ دفاعی برتری ہو یا ایران کی میزائل پاور، ان سب کے پیچھے بیجنگ کا وہ “ماسٹر اسٹروک” ہے جسے ٹرمپ اپنی تقریر میں گول کر گئے۔ یہ جنگ امریکہ کے لیے ایک نیا “ویت نام” ثابت ہو رہی ہے اور یہ امریکی طاقت کے تابوت میں “آخری کیل” ثابت ہوگی۔
حتمی نتیجہ: ‘سند یافتہ چھڈو’ کا انجام
دھواں” نکل رہا ہے۔ وہ دنیا کو “ایسٹر لنچ” کی ویڈیوز دکھا کر بہلا رہے ہیں جبکہ ان کے پیچھے ان کا اپنا ہی ملک پیٹرول کی قیمتوں کے جہنم میں جل رہا ہے۔”جب غبارے میں چینی سوئی چبھ جائے اور سامنے والا پستول کے بجائے سچی رائفل تان لے، تو ہوائی فائرنگ کرنے والے تھانیدار کی اصلیت خود بخود سامنے آ جاتی ہے۔”
خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: کیا موساد کا سربراہ مارا جا چکا ہے؟ ملک توصیف احمد کا سنسنی خیز تجزیہ سچ ثابت ہو گیا
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress
