صدر ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑی جنگی کامیابی کا دعویٰ | اردو پوائنٹ پریس
ایران کی بحریہ اور فضائیہ مکمل تباہ، ‘آپریشن ایپک فیوری’ فیصلہ کن مرحلے میں داخل: صدر ٹرمپ کا قوم سے خطاب

صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کا قوم سے خطاب (یکم اپریل 2026)
”میرے ساتھی امریکیوں، گڈ ایوننگ۔
میں اپنی بات کا آغاز ناسا (NASA) کی ٹیم اور ہمارے بہادر خلابازوں کو ‘آرٹیمس 2’ کے کامیاب لانچ پر مبارکباد دے کر کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک غیر معمولی منظر تھا۔ یہ راکٹ انسانی تاریخ کے کسی بھی مشن سے زیادہ دور تک جائے گا، چاند کے مدار کو عبور کرے گا اور وہاں سے واپس آئے گا جہاں سے پہلے کوئی نہیں آیا۔ وہ اپنے سفر پر روانہ ہیں اور خدا ان چار ناقابلِ یقین خلابازوں کی حفاظت کرے۔
آج رات جب ہم بات کر رہے ہیں، امریکی فوج کے ‘آپریشن ایپک فیوری’ (Operation Epic Fury) کو ٹھیک ایک ماہ ہو چکا ہے، جس کا نشانہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا دنیا کا نمبر ون ملک ایران ہے۔ گزشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدانِ جنگ میں ایسی تیز رفتار اور فیصلہ کن فتوحات حاصل کی ہیں جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔
آج رات ایران کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ کھنڈرات کا ڈھیر ہے، اور ان کی قیادت—وہ دہشت گرد حکومت جسے وہ چلا رہے تھے—اب مردہ ہو چکی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔ ان کی میزائل اور ڈرون داغنے کی صلاحیت کو بری طرح کچل دیا گیا ہے اور ان کی اسلحہ فیکٹریاں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ جنگی تاریخ میں کبھی کسی دشمن کو اتنے کم ہفتوں میں اتنا بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچا۔ ہمارے دشمن ہار رہے ہیں اور امریکہ—جو میرے پانچ سالہ دورِ صدارت میں مسلسل جیت رہا ہے—اب پہلے سے کہیں بڑی جیت حاصل کر رہا ہے۔
موجودہ صورتحال پر بات کرنے سے پہلے میں اپنی افواج کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے چند منٹوں میں وینزویلا کا کنٹرول سنبھال کر ایک ماہرانہ کام کیا۔ یہ کارروائی تیز، جان لیوا اور ایسی تھی کہ پوری دنیا میں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اپنی پہلی مدت میں فوج کی تعمیرِ نو کے بعد، اب ہمارے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، اور اب ہم وینزویلا کے ساتھ تیل اور گیس کی پیداوار میں شراکت دار بن چکے ہیں۔ ہم اب مشرقِ وسطیٰ کے تیل سے مکمل آزاد ہیں، ہمیں ان کے تیل یا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، لیکن ہم وہاں اپنے اتحادیوں کی مدد کے لیے موجود ہیں۔
آج رات میں آپ کو ایران میں اپنے جنگجوؤں کی پیشرفت اور اس آپریشن کی ضرورت پر بتانا چاہتا ہوں۔ 2015 میں اپنی انتخابی مہم کے پہلے دن سے میں نے عہد کیا تھا کہ میں ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا۔ اس جنونی حکومت نے 47 سالوں سے ‘امریکہ مردہ باد’ اور ‘اسرائیل مردہ باد’ کے نعرے لگائے ہیں۔ ان کے کارندوں نے بیروت میں ہمارے 241 فوجیوں کو مارا، سڑک کنارے نصب بموں سے سینکڑوں امریکیوں کا خون بہایا، یو ایس ایس کول (USS Cole) پر حملہ کیا اور اسرائیل میں 7 اکتوبر جیسے ہولناک مظالم ڈھائے۔ اس قاتل حکومت نے احتجاج کرنے والے اپنے ہی 45 ہزار شہریوں کو قتل کر دیا۔ ایسے دہشت گردوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہونا ایک ناقابلِ برداشت خطرہ ہے۔ میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا۔
یہ صورتحال 47 سال سے چل رہی تھی جسے میرے آنے سے بہت پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا۔ میں نے اپنے دور میں ایران کو روکنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے۔ سب سے اہم یہ کہ میں نے اپنی پہلی مدت میں جنرل قاسم سلیمانی کو مارا، جو ایک بدعنوان ذہانت رکھنے والا شخص اور سڑک کنارے نصب بموں کا بانی تھا۔ پھر میں نے باراک حسین اوباما کی ایران ایٹمی ڈیل کو ختم کیا جو ایک تباہی تھی۔ اوباما نے انہیں 1.7 بلین ڈالر نقد دیے، جہازوں میں بھر کر پیسے بھیجے تاکہ ان کی وفاداری خریدی جا سکے، لیکن وہ ہمارے صدر پر ہنستے رہے اور ایٹمی بم بناتے رہے۔ اگر میں وہ ڈیل ختم نہ کرتا تو آج مشرقِ وسطیٰ اور اسرائیل کا وجود نہ ہوتا۔
میری پہلی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری تھی، لیکن جب انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی ہوس نہ چھوڑی تو جون میں میں نے ایران کی اہم ایٹمی تنصیبات پر حملے کا حکم دیا جسے ‘آپریشن مڈ نائٹ ہیمر’ کا نام دیا گیا۔ ہمارے خوبصورت بی ٹو (B2) بمبار طیاروں نے ان تنصیبات کو ملیامیٹ کر دیا۔ جب انہوں نے دوبارہ کوشش کی اور ایسے میزائل بنانا شروع کیے جو امریکہ اور یورپ تک پہنچ سکیں، تو ہمیں ایکشن لینا پڑا۔
’آپریشن ایپک فیوری’ کے مقاصد واضح ہیں: ایران کی امریکہ کو دھمکانے کی صلاحیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا۔ اس کا مطلب ہے ایرانی بحریہ کا مکمل خاتمہ، ان کی فضائیہ اور میزائل پروگرام کی تباہی اور ان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نیست و نابود کرنا۔ ہم یہ سب کر چکے ہیں۔ ان کی بحریہ جا چکی ہے، میزائل ختم ہو چکے ہیں۔ آج میں یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ یہ تزویراتی مقاصد تکمیل کے قریب ہیں۔
ہم اس جنگ میں جان دینے والے 13 امریکی ہیروز کو سلام پیش کرتے ہیں۔ میں نے ان کے خاندانوں سے ملاقات کی ہے اور انہوں نے مجھ سے کہا، ‘سر! اس کام کو ادھورا نہ چھوڑیے گا’۔ اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہم اسے بہت جلد مکمل کریں گے۔ میں اپنے اتحادیوں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، یو اے ای، کویت اور بحرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم انہیں کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔
امریکہ میں پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایرانی حکومت کے ان پاگلانہ دہشت گرد حملوں کا نتیجہ ہے جو انہوں نے تیل کے ٹینکروں پر کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ اقتصادی طور پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔ ہم نے تاریخ کی مضبوط ترین معیشت بنائی ہے، ایک مردہ ملک کو دنیا کا گرم ترین ملک بنا دیا ہے جہاں افراطِ زر (Inflation) صفر ہے اور اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ بنا رہی ہے۔
ہمارے ‘ڈرِل بی بی ڈرِل’ (Drill Baby Drill) پروگرام کی بدولت ہمارے پاس گیس اور تیل وافر مقدار میں موجود ہے۔ ہم اب سعودی عرب اور روس سے بھی زیادہ تیل پیدا کر رہے ہیں۔ ہمیں آبنائے ہرمز سے تیل منگوانے کی ضرورت نہیں رہی۔ وہ ممالک جو وہاں سے تیل لیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ خود اس راستے کی حفاظت کریں۔ میرا ان ممالک کو مشورہ ہے: نمبر ایک، امریکہ سے تیل خریدیں، ہمارے پاس بہت ہے۔ نمبر دو، تھوڑی ہمت دکھائیں اور خود اس بحری راستے کی حفاظت کریں۔ ایران اب تباہ ہو چکا ہے، اب یہ کام آسان ہے۔
میں واضح کر دوں کہ ہمارا مقصد حکومت کی تبدیلی (Regime Change) نہیں تھا، لیکن ان کی پرانی قیادت کے خاتمے سے یہ خود بخود ہو چکی ہے۔ نئی قیادت کم شدت پسند ہے، لیکن اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ہم ان کے تمام بجلی گھروں (Electric Plants) کو بیک وقت نشانہ بنائیں گے۔ ہم نے ابھی تک ان کے تیل کو نہیں چھیڑا تاکہ انہیں بقا کا موقع ملے، لیکن اگر ہم نے چاہا تو وہ بھی منٹوں میں ختم ہو جائے گا۔ ان کے پاس کوئی طیارہ شکن اسلحہ یا ریڈار باقی نہیں بچا۔ ہم ایک ناقابلِ شکست فوجی قوت ہیں۔
پہلی عالمی جنگ 1 سال 7 ماہ چلی، دوسری عالمی جنگ 3 سال سے زیادہ، ویت نام 19 سال، عراق 8 سال—لیکن ہم نے صرف 32 دنوں میں ایک طاقتور ملک کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ وہ اب خطے کے بدمعاش (Bully) نہیں رہے۔ یہ آپ کے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔ پوری دنیا امریکی فوج کی اس مہارت اور طاقت کو دیکھ کر حیران ہے۔
آج ہر امریکی اس دن کی طرف دیکھ سکتا ہے جب ہم ایرانی جارحیت اور ایٹمی بلیک میلنگ کے سائے سے آزاد ہوں گے۔ جب یہ سب ختم ہوگا، امریکہ پہلے سے زیادہ محفوظ، مضبوط اور عظیم ہوگا۔ خدا امریکی افواج اور ریاستہائے متحدہ امریکہ پر اپنا فضل برقرار رکھے
خدارا ہمیں پاکستان سے بچائیں، طالبان حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

