خصوصی تحقیقاتی رپورٹ: کیا موساد کا سربراہ مارا جا چکا ہے؟ ملک توصیف احمد کا سنسنی خیز تجزیہ سچ ثابت ہو گیا

موساد چیف کی ہلاکت کی مبینہ خبر کا تجزیہ - ملک توصیف احمد

​تحریر: ملک توصیف احمد )
​عالمی سیاست اور انٹیلی جنس کی دنیا میں اس وقت ایک بڑا بھونچال آ چکا ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ جسے مغرب ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، وہ مٹی کے پاؤں نکلے۔ چند عرصہ قبل جب ہم نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (CIA) اور اسرائیلی موساد (Mossad) کی ایرانی عسکری قوت کے بارے میں معلومات ناقص اور بالکل غلط ہیں، تو کئی حلقوں نے اسے محض ایک مفروضہ سمجھا تھا۔ لیکن آج دنیا بھر کا میڈیا اور تازہ ترین شواہد ہمارے اس تجزیے پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔حالیہ رپورٹوں اور زمینی حقائق کے مطابق، اسرائیل کی سب سے طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی، موساد، اس وقت شدید اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق، اس بات کا قوی امکان ہے کہ موساد کا سربراہ ایران اور لبنان کے میزائل حملوں میں مارا جا چکا ہے۔ اگرچہ عالمی میڈیا اسے نیتن یاہو اور موساد چیف کے درمیان “شدید اختلافات” کا رنگ دے رہا ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہی اشارہ کر رہے ہیں۔ موساد کے چیف گزشتہ ایک ہفتے سے تمام اہم سیکیورٹی میٹنگز اور دفاعی اجلاسوں سے مکمل طور پر غائب ہیں۔ یہ مسلسل غیر حاضری ان کے زندہ رہنے پر سنگین شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔ قوی امکان ہے کہ حساس تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں وہ لقمہ اجل بن چکے ہیں، اور “اختلافات” کی کہانی محض اس بڑی ہلاکت کی خبر کو دبانے کے لیے پھیلائی جا رہی ہے۔ اسرائیلی قیادت اب اپنے بھاری نقصانات کا ملبہ موساد پر ڈال رہی ہے، کیونکہ موساد ایرانی میزائلوں کی تباہ کن صلاحیت کا درست اندازہ لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔صرف موساد ہی نہیں، بلکہ سی آئی اے بھی اس ناکامی میں برابر کی شریک ہے۔ ہمارے تجزیے کے مطابق، امریکہ اپنی عالمی “رٹ” اور ساکھ بچانے کے لیے اپنے نقصانات کو دبا کر بیٹھا ہے، لیکن حقائق اب سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی حملوں نے امریکہ کے 16 فضائیہ کے اور 6 بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر امریکی بحری اور فضائی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ امریکی فوجی اب اپنے اڈوں پر بھی محفوظ نہیں رہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اب ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں تاکہ وہ ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی زد میں آنے سے بچ سکیں۔یہ ہمارا دوسرا بڑا تجزیہ ہے جو حرف بہ حرف درست ثابت ہوا۔ پہلا بریک تھرو سعودی عرب اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات کی نئی جہتوں کی نشاندہی تھی، اور اب موساد و سی آئی اے کی انٹیلی جنس ناکامی نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے۔ امریکہ کا ضبط اب ٹوٹنے کے قریب ہے کیونکہ اسے براہِ راست حملوں کا سامنا ہے، جو اس کی عالمی بالادستی کے لیے ایک ایسا بڑا چیلنج بن چکا ہے جسے وہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔​حالات گواہ ہیں کہ انٹیلی جنس کی یہ غلط معلومات اسرائیل اور امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل چکی ہیں جس کا انجام ان کی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔

امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *