ایران کا امریکہ اور اسرائیل پر بڑا حملہ: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل اور پاکستان پر اثرات
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے تناظر میں “بورڈ آف پیس” چارٹر پر دستخط کیے گئے ہیں، جس میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور اردن سمیت متعدد ممالک باضابطہ طور پر شامل ہو گئے ہیں۔

امریکہ ، ایران ، اسرائیل ، (نیوز ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ہے، جہاں ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے “یو ایس ایس ابراہیم لنکن” کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ اسرائیل کے متعدد شہروں پر بھی میزائلوں کی بارش کر دی گئی ہے۔روسی میڈیا اور ایرانی ذرائع کے مطابق، ایران نے “دشمن کے خلاف 91 ویں لہر” کے طور پر امریکی بحری بیڑے پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ، جزیرہ قشم کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک جدید امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، جس کی ویڈیو جاری کر دی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ان حملوں میں کئی امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور اب امریکہ و اسرائیل کو ماضی سے کہیں زیادہ سخت جواب کے لیے تیار رہنا چاہیے۔اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کو روکنے میں اسرائیلی دفاعی نظام (آئرن ڈوم) ناکام رہا۔ میزائل براہِ راست شہری علاقوں اور اہداف پر گرے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے اور آگ لگ گئی۔ اطلاعات کے مطابق، ایک میزائل حملے میں اسکول اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے پورے اسرائیل میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے تمام فریقین سے فوری طور پر ضبطِ نفس کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس جنگ کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے اور محدود وسائل کے باعث انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے تناظر میں “بورڈ آف پیس” چارٹر پر دستخط کیے گئے ہیں، جس میں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور اردن سمیت متعدد ممالک باضابطہ طور پر شامل ہو گئے ہیں۔ تاہم، متحدہ عرب امارات نے ایران کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے۔اس جنگی صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق، خلیجی جنگوں کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث حکومت کو پاکستان میں پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کرنا پڑا۔ اس اضافے کے بعد عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے سبسڈی کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ٹرمپ کے ہوائی قلعے اور سمندر کے تلخ حقائق: ‘سند یافتہ چھڈو’ کے خطاب کا مکمل پوسٹ مارٹم
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

