دنیا بارود کے ڈھیر پر: ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستان کی سفارتکاری کا امتحان | تحریر: افتخار بٹ

مشرق وسط افتخاربٹ

تحریر: افتخاربٹ مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شعلوں کی لپیٹ میں ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب محض بیان بازی تک محدود نہیں رہی بلکہ کھلی محاذ آرائی کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں معمولی غلطی بھی ایک بڑی عالمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
یہ وہی دنیا ہے جو امن کے دعوے کرتی ہے، مگر عملی طور پر طاقت کی سیاست پر قائم ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ حکمتِ عملی نے خطے میں عدم توازن پیدا کر دیا ہے، جبکہ ایران بھی اپنی دفاعی پالیسی کے تحت بھرپور جواب دینے کے موڈ میں نظر آ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پورا خطہ ایک آتش فشاں کی طرح دہک رہا ہے۔
“بیچ کی کوٹھڑی” یا سفارتی محاذ؟ایسے نازک حالات میں پاکستان ایک بار پھر خود کو “بیچ کی کوٹھڑی” میں پاتا ہے، جہاں اسے ایک طرف عالمی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا ہے اور دوسری طرف خطے کے اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہے۔پاکستان کی سفارتکاری ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے، جہاں مذاکرات، پیغامات کی ترسیل اور جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سفارتکاری واقعی کسی بڑی طاقت کے مفادات کو متاثر کر سکتی ہے؟ یا یہ صرف ایک رسمی کوشش ہے جس کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہے؟سفارتکاری یا دکھاوا؟سفارتکاری اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب فریقین واقعی امن چاہتے ہوں۔ لیکن یہاں تو حالات اس کے برعکس ہیں:ایسے ماحول میں مذاکرات کی کامیابی ایک مشکل خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ایران نے امریکی رویے کو یکطرفہ قرار دے کر واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ دباؤ میں نہیں آئے گا۔خطرناک نتائج دنیا کے لیے وارننگ اگر یہ کشیدگی اسی طرح بڑھتی رہی توعالمی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کریں گی اور دنیا ایک نئی جنگ کے خطرناک دہانے پر کھڑی ہوگی اور اگر جنگ چھڑ گئی تو یہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ۔اور پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک امتحان ہے۔اگر سفارتکاری کامیاب ہوئی تو پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوگا۔اگر جنگ بڑھی تو پاکستان پر دباؤ اور مشکلات بڑھ جائیں گی۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو انتہائی ہوشیاری سے چلانا ہوگا۔ ایک غلط قدم اسے نہ چاہتے ہوئے بھی عالمی تنازعے میں گھسیٹ سکتا ہے۔اصل سوال کیا امن ممکن ہے؟اصل سوال یہ نہیں کہ جنگ ہوگی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا طاقتور ممالک واقعی امن چاہتے ہیں؟اگر جواب “ہاں” ہے تو جنگ روکی جا سکتی ہے۔اگر جواب “نہیں” ہے تو پھر کوئی بھی سفارتکاری اس آندھی کو نہیں روک سکتی۔دنیا اس وقت ایک خطرناک کھیل کھیل رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے امن کے نام پر کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اپنی جگہ ایک اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کھیل میں کمزور فریق اکثر سب سے زیادہ نقصان اٹھاتا ہے۔یہ وقت جذبات کا نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور سخت فیصلوں کا ہے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار

کالم نگار کا تعارف

افتخار علی بٹ ملک کے معروف کالم نگار اور رائٹرز کلب کے چیئرمین ہیں۔ آپ گزشتہ 35 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور روزنامہ پاکستان لاہور سمیت ملک کے بڑے اخبارات میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ آج کل آپ کی تحاریر باقاعدگی سے روزنامہ خبریں کی زینت بن رہی ہیں۔

اہم نوٹ (قانونی وضاحت):

کالم نگار کے پیش کردہ خیالات، حقائق اور تجزیہ ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے (اردو پوائنٹ پریس) کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ کسی بھی تحریر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی قانونی پیچیدگی یا معلومات کی صحت کا ذمہ دار نہیں ہے۔


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *