​عید الفطر؛ محبتوں کا سنگم اور مسکراہٹوں کا تہوار

​ ڈیرہ غازی خان سے چوہدری احمد کی رپورٹ)

​عید الفطر محض ایک مذہبی تہوار نہیں، بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے، کدورتیں مٹانے اور انسانیت سے محبت کا ایک عظیم پیغام ہے۔ ماہِ صیام کے اختتام پر جب شوال کا چاند اپنی ضوفشانیاں بکھیرتا ہے، تو ہر سو خوشیوں کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی ہے۔ امسال بھی عید الفطر روایتی جوش و جذبے اور والہانہ محبت کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔

​محبتوں کا سفر: گلے ملنے کی روایت
​نمازِ عید کی ادائیگی کے بعد مساجد اور عید گاہوں میں ایک روح پرور منظر دیکھنے کو ملا۔ شہری ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر عید کی مبارکباد دیتے رہے۔ یہ سلسلہ محض نماز تک محدود نہ رہا بلکہ عید کے دوسرے اور تیسرے روز بھی محبت و پیار کا یہ حسیں سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ لوگ اپنے دیرینہ گلے شکوے بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ عید دشمنی کو دوستی میں بدلنے کا نام ہے۔

​علما کرام کی تکریم
​اس موقع پر شہریوں نے جہاں اپنے عزیز و اقارب کو یاد رکھا، وہیں مساجد میں نمازِ عید پڑھانے والے علما کرام کو بھی خصوصی طور پر عید مبارک پیش کی۔ دین کی خدمت کرنے والوں کو اس خوشی میں شریک کرنا ہماری معاشرتی اقدار کا ایک اہم حصہ ہے، جسے شہریوں نے بخوبی نبھایا۔

​رشتوں کی تجدید: دوست احباب کے گھر آمد
​عید کی اصل رونق اپنوں سے ملنے میں ہے۔ لوگ ٹولیوں کی صورت میں اور انفرادی طور پر اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور اہل خانہ کے گھروں میں جاتے رہے۔ مٹھائیوں کا تبادلہ اور تواضع کا یہ دور سماجی رابطوں کو مضبوط کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔

​بچوں کی عید: رنگ، خوشیاں اور عیدی مہم
​سچ تو یہ ہے کہ عید کی حقیقی خوشیاں بچوں کے دم قدم سے ہی وابستہ ہیں۔ رنگ برنگے لباس، چمکتی چوڑیاں، دیدہ زیب میک اپ اور نئے جوتوں میں ملبوس بچے ہر طرف چہکتے نظر آئے۔ بچوں کی ‘عیدی مہم’ پورے زور و شور سے جاری ہے، جہاں وہ اپنے بڑوں سے عیدی سمیٹتے اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو چار چاند لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان معصوموں کی مسکراہٹیں ہی عید کو “حقیقی عید” بناتی ہیں۔عید ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھیں اور خوشیوں کو تقسیم کریں۔ اگر ہم سچائی اور عوامی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پیدا کر لیں، تو ہر دن عید جیسا پرمسرت ہو سکتا ہے۔

ہرمز کی لہریں اور امریکی زوال: تزویراتی تجزیہ از ملک توصیف احمد

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *