امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار

 امریکہ اور ایران مذاکرات میں بدمست ہاتھی کی بے بسی

​تحریر: ملک توصیف احمد
​آج کا انسان پتھر کے دور سے نکل کر ایٹمی دور میں تو پہنچ گیا ہے، لیکن اس کا رویہ اب بھی غاروں میں رہنے والے اس شکاری جیسا ہے جس کے نزدیک قانون صرف اس کی اپنی طاقت ہے۔ عالمی سیاست اس وقت اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں “انصاف” صرف طاقتور کی دہلیز پر سجدہ ریز ہے اور بین الاقوامی قوانین محض ردی کے وہ ٹکڑے ہیں جنہیں مصلحت کی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات، جن میں ایک طرف سے 15 اور دوسری جانب سے 5 نکات پیش کیے گئے ہیں، دراصل کسی عالمی ضابطے کی جیت نہیں بلکہ دو ایسے “تھکے ہوئے پہلوانوں” کی وہ بحث ہے جہاں جیت کا معیار انصاف نہیں بلکہ کم سے کم نقصان پر سمجھوتہ ہے۔​

 چین عرب تجارت خلیج میں چین کی بڑھتی ہوئی تجارت اور امریکی اثر کا زوال

ہم نے اپنے گزشتہ کالم میں یہ تجزیہ کیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی گرفت دن بدن کمزور ہوتی جائے گی، اور آج کے حالات اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر رہے ہیں۔ جس چین کو دبانے کے لیے امریکہ نے اسرائیل کا کندھا استعمال کر کے جنگ مسلط کی تھی، اسی چین نے اب خاموشی سے اپنا راستہ بنایا اور خلیجی ممالک سے اپنا تجارتی حصہ وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ خلیج سے چینی تجارتی کنٹینرز کی آمد کی خبریں اس بات کی گواہ ہیں کہ خطے کا اعتماد اب امریکہ سے اٹھ کر چین پر منتقل ہو رہا ہے۔ جب کوئی پرانا رفیق (عرب ممالک) اپنے روایتی سرپرست کے بدترین حریف (چین اور روس) کے ساتھ کھلے عام تجارت شروع کر دے، تو یہ دراصل اس گہرے عدم تحفظ کا اظہار ہے جو امریکہ کی ناکام پالیسیوں نے جنم دیا ہے۔
​امریکہ کی نام نہاد سپر پاور کا بھرم تو اس وقت بھی ٹوٹ گیا جب وہ برسوں کی دھمکیوں کے باوجود تنگنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو اپنی مرضی سے کھلوانے میں ناکام رہا۔ دنیا نے دیکھا کہ وہ سمندری گزرگاہ جو عالمی معیشت کی شہ رگ ہے، وہاں امریکی بحریہ کی موجودگی کے باوجود ایران کا حکم چلتا ہے۔ ٹرمپ، جو سیاست کو ریسلنگ کا وہ اکھاڑہ سمجھ رہا تھا جہاں وہ ‘نورا کشتی’ کا ماہر ہے، اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہاں مقابلہ کسی کرائے کے پہلوان سے نہیں بلکہ ایک غیرت مند اور مزاحمتی قوم سے ہے۔ دھمکیوں سے شروع ہونے والا ٹرمپ کا سفر آج “درخواستوں” کی دہلیز تک آ پہنچا ہے۔ ریسلنگ کے رنگ میں مصنوعی غصہ دکھانے والا ٹرمپ جب حقیقی جنگ کے میدان میں اترا، تو اسے پتہ چلا کہ یہاں ریفری اس کی اپنی مرضی کا نہیں ہوتا۔ یہی وہ ذہنی شکست ہے جس نے اسے مذاکرات کی میز پر 15 نکات پیش کرنے پر مجبور کیا، ورنہ جو شخص ریجیم چینج کے دعوے کرتا تھا، وہ آج صرف محفوظ راستہ ) مانگ رہا ہے

امریکہ اس وقت ایک ایسے بدمست ہاتھی کی مانند

امریکہ اس وقت ایک ایسے بدمست ہاتھی کی مانند ہے جو نہ تو عالمی قوانین کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی عالمی عدالت کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت ہے۔ اسرائیل کو عالمی عدالت میں شکست ہوئی، فلسطینیوں کی نسل کشی ثابت ہوئی، لیکن کیا ہوا؟ کیا ان فیصلوں سے فلسطینیوں کا لہو رک گیا؟ یا مظلوم ان کاغذوں کو چاٹیں تاکہ وہ رگڑ کھا کر ختم ہو جائیں؟ امریکہ جب چاہتا ہے وینزویلا سے مادورو کو اٹھا لیتا ہے، کبھی گرین لینڈ پر قبضے کے خواب دیکھتا ہے اور کبھی ایران پر حملے شروع کر دیتا ہے۔ وہ ورلڈ آرڈر کا خالق بن کر اب اسے خود ہی اپنے پیروں تلے روند رہا ہے۔ لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ امریکہ کو ادراک ہو گیا ہے کہ ایران وہ دلدل ہے جہاں وہ جتنا دھنسے گا، اتنا ہی اپنا وجود ختم کر لے گا۔ وہ اب “زندہ رہنے کے لیے فرار” چاہتا ہے۔
​ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا تضاد دیکھیں؛ وہ ایرانی قیادت کے پے در پے قتلِ عام کے بعد اسے “رجیم چینج” کا نام دے کر مذاکرات کی میز سجا رہا ہے۔ یہ کیسی دیوانگی ہے کہ آپ کسی کے باپ کا خون بہائیں اور پھر اس کے بیٹے (موجودہ سپریم لیڈر) سے یہ توقع رکھیں کہ وہ اپنے اسلاف کا خون بھول کر آپ سے پیار کی پینگیں بڑھائے گا؟ یہ ایران کی “رجیم چینج” نہیں بلکہ خود ٹرمپ کا “برین چینج” (ذہنی تبدیلی) ہے، کیونکہ اسے خود امریکہ میں مڈ ٹرم الیکشن کے ذریعے اپنی “رجیم” ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اپنی ڈوبتی ساکھ بچانے کے لیے وہ اب ان اتحادیوں کی طرف دیکھ رہا ہے جنہوں نے اس جنگی جنون سے “سٹیپ بیک” کر لیا ہے

 تنگنائے ہرمز تنگنائے ہرمز پر ایران کی بالادستی اور امریکی بحریہ کی ناکامی

​اس تمام منظر نامے میں جو بات روح کو تڑپا دیتی ہے، وہ او آئی سی کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ عرب ممالک کی جانب سے ان میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی گئی جو صیہونی ریاست پر داغے جا رہے تھے۔ خلیج نے امریکہ کو اڈے دے کر دراصل ان یہودیوں کو تحفظ فراہم کیا جنہوں نے دہائیوں سے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں۔ ہماری مسجدوں میں اسرائیل کی تباہی کی دعائیں مانگی گئیں، لیکن جب عملاً کسی برادر اسلامی ملک نے ہمت دکھائی، تو ہم اسرائیل کے دست و بازو بن گئے۔ یہ کیسی بے حسی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم ریاست بھی اسرائیل پر حملہ کرتی تو ہمیں اس کی پیٹھ تھپتھپانی چاہیے تھی، مگر ہم نے اپنے اسلاف کی غیرت کو مصلحت کی بھینٹ چڑھا دیا۔

 ٹرمپ بوکھلاہٹ ڈونلڈ ٹرمپ کی نورا کشتی اور مڈ ٹرم الیکشن کا خوف

​ایسے مخدوش حالات میں پاکستان کا کردار لائقِ تحسین ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ اسرائیل کی کھل کر مخالفت کی، یہاں تک کہ ہمارے پاسپورٹ پر درج تحریر آج بھی ہماری غیرت کی گواہ ہے۔ پاکستان کو بھارت کے ساتھ جنگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی، اسے دہشت گردی کا گراؤنڈ بنایا گیا، اسرائیلی ساختہ ڈرونز ہمارے خلاف استعمال ہوئے، لیکن پاکستان نے “سافٹ ٹارگٹ” بننے کے بجائے حکمت عملی سے کام لیا۔ پاکستان نے خلیجی ممالک کی طرح اسرائیل کا دستِ بازو بننے کے بجائے ایران اور امریکہ کے درمیان وہ توازن برقرار رکھا ہے جو آج دنیا کو ورلڈ وار سے باہر لانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ دنیا دیکھے، جب قانون دم توڑ دیتا ہے تو پھر قدرت کا وہ قانون حرکت میں آتا ہے جہاں شکاری خود شکار بن جاتا ہے۔ ایران کا “جارحانہ جواب” اور پاکستان کی “مستحکم حکمت عملی” اس نئے عالمی منظر نامے کا دیباچہ ہے جہاں اب بدمست ہاتھیوں کی حکمرانی کا سورج غروب ہونے کو ہے۔

پاکستان و امہ او آئی سی کی خاموشی اور پاکستان کا اسرائیل مخالف موقف

ہرمز کی لہریں اور امریکی زوال: تزویراتی تجزیہ از ملک توصیف احمد


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *