`پاکستان کا “تیسرا راستہ”: عالمی سیاست اور معاشی خود مختاری کا نیا نقشہ
آج کی دنیا ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا توازن بڑی تیزی کے ساتھ مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔

پاکستان کا “تیسرا راستہ”: عالمی بساط پر تزویراتی خود مختاری کا نیا نقشہ
تحریر: ملک توصیف احمد
آج کی دنیا ایک ایسے تاریخی دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا توازن بڑی تیزی کے ساتھ مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ اپنی دہائیوں پرانی یک قطبی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، تو دوسری طرف چین اپنی معاشی فتوحات اور میزائل ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر خاموشی سے عالمی منظر نامے پر چھا چکا ہے۔ عالمی سیاست کے اس تپتے ہوئے اسٹیج پر جب “ہاتھی” آپس میں لڑ رہے ہوں، تو پاکستان جیسے جغرافیائی اہمیت کے حامل ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنی بقا اور خود مختار حیثیت کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ اس کشمکش میں ہمارے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں کسی ایک کا “سائیڈ کک” بننا چاہیے یا اپنی تزویراتی خود مختاری (Strategic Autonomy) کا علم بلند کرنا چاہیے؟
حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں سے دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ 2019 کے “آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ” کی یادیں ابھی تازہ تھیں، جہاں ہم نے 2 بھارتی طیارے گرا کر ابھینندن کو گرفتار کیا تھا، لیکن 2025 کی حالیہ پاک بھارت جنگ نے دفاعی تاریخ کے تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دیے۔ پاکستان نے بھارت کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے اس کے 7 جدید ترین فرانسیسی ساختہ طیاروں کو زمین بوس کر کے اپنی عسکری دھاک بٹھا دی۔ یہ کامیابی پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ پاکستان اب وہ 1947 یا 1971 والا ملک نہیں رہا جو صرف دفاعی پوزیشن میں رہتا تھا۔ شاہین-3 جیسے بیلسٹک میزائل، جو 2750 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ہمارے دشمنوں کے لیے ایک دو ٹوک پیغام ہیں کہ پاکستان کی رسائی اب ان کے محفوظ ترین ٹھکانوں تک ہو چکی ہے۔
لیکن یہاں ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے: کیا صرف دفاعی برتری ہی کافی ہے؟ اگر ہم چین اور امریکہ کے درمیان جاری سرد جنگ کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں، تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ چین نے امریکہ کو صرف ہتھیاروں کے زور پر نہیں، بلکہ معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں شکست دی ہے۔ آج چینی میزائل (DF-41) محض 30 منٹ میں امریکہ کے کسی بھی شہر کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن چین کی اصل طاقت اس کی عالمی منڈیوں پر گرفت ہے۔ امریکہ جو کبھی پابندیوں کے زور پر دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچاتا تھا، آج روسی اور ایرانی تیل پر سے پابندیاں ہٹانے پر مجبور ہو چکا ہے کیونکہ وہ خود ایک “بند گلی” میں پھنس گیا ہے۔
پاکستان کے لیے اس بدلتی صورتحال میں سب سے بڑا سبق ہمارا اپنا تلخ ماضی ہے۔ ہم نے دہائیوں تک دوسروں کی جنگوں میں “کرائے کا سپاہی” بن کر دہشت گردی، معاشی بدحالی اور کلاشنکوف کلچر کا بوجھ سہا۔ نائن الیون کے بعد “فرنٹ لائن سٹیٹ” بننے کی جو قیمت ہم نے 80 ہزار معصوم جانوں اور 150 ارب ڈالر کے مالی نقصان کی صورت میں چکائی، وہ ہمیں یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کسی بھی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے “توازن” (Balancing) کی پالیسی اپنائیں۔
بدقسمتی سے ہمارا میڈیا، جس میں خاکسار بھی شامل ہے، اکثر ریٹنگ کی اندھی دوڑ میں توازن کھو کر جذباتیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہم عوام کو سنسنی خیز نعروں میں الجھا دیتے ہیں، جبکہ ریاستیں “جذباتی نعروں” سے نہیں بلکہ “ٹھوس قومی مفادات” سے چلتی ہیں۔ حالیہ پاک بھارت معرکے کے دوران جب ہر زبان زدِ عام پر یہ سوال تھا کہ “پاکستان اب کیا کرے گا؟” تو دنیا دیکھ رہی تھی کہ پاکستان یا تو آئی ایم ایف کے قرضوں اور ورلڈ بینک کی کڑی شرائط کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا یا پھر مکمل طور پر چینی و ایرانی کیمپ میں جا کر عالمی تنہائی مول لے گا۔ لیکن پاکستان نے ایک حیران کن “تیسرا راستہ” اپنایا۔
پاکستان نے اس نازک موڑ پر جہاں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی دفاعی معاہدوں کو مضبوط رکھا، وہیں چین کے سی پیک منصوبوں پر آنچ نہیں آنے دی اور گوادر سی پورٹ پر ایرانی تیل کی ریفائنری کے منصوبے پر پیشرفت کر کے اپنی توانائی کی خود مختاری کا بیانیہ واضح کیا۔ یہ “تیسرا راستہ” دراصل ایک ایسی متوازن خارجہ پالیسی کا شاہکار ہے جہاں پاکستان نے آئی ایم ایف کا مقروض ہونے کے باوجود اپنی تزویراتی آزادی کا سودا نہیں کیا۔ ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ قرض اپنی جگہ، لیکن ملکی مفاد اور علاقائی تعاون ہماری پہلی ترجیح ہے۔ اسی پالیسی کی بدولت آج پاکستان کسی ایک بلاک کا محتاج نظر نہیں آتا، بلکہ ایک ایسے محور کے طور پر ابھرا ہے جس کی ضرورت مشرق اور مغرب دونوں کو ہے۔
تاہم، اس تزویراتی کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے ہمیں اپنی اندرونی معیشت کو بھی اسی جنون کے ساتھ سنبھالنا ہوگا جس طرح ہم نے اپنا دفاع سنبھالا ہے۔ آج گوجرانوالہ جیسے صنعتی مراکز سے جو سرمایہ کار سیاسی عدم استحکام اور “پاکستان جام” ہونے کے خوف سے باہر جا چکے ہیں، انہیں واپس لانے کے لیے صرف حب الوطنی کی جذباتی تقریریں کافی نہیں ہوں گی۔ سرمایہ کار اب “پروٹیکشن” اور “پرافٹ” چاہتا ہے۔ جب پاکستان کا یہ “تیسرا راستہ” بیرونی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش منافع اور سیاسی تسلسل کی ضمانت دے گا، تو وہی لوگ جو آج باہر سرمایہ کاری کر چکے ہیں، کسی نعرے کے لیے نہیں بلکہ “لالچ” اور بہترین معاشی مواقع کی تلاش میں خود بخود واپس آئیں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان اب عالمی بساط پر کسی کے پیچھے کھڑا ہونے والا مہرہ نہیں رہا، بلکہ ایک نمایاں کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔ ہم نے جنگ کے میدان میں اپنی عسکری برتری اور سفارت کاری کے میدان میں اپنی تزویراتی دانائی ثابت کر دی ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس برتری کو ایک مستحکم معاشی ڈھال میں بدلیں، تاکہ مستقبل کا پاکستان صرف میزائلوں کے سائے میں نہیں، بلکہ معاشی خوشحالی کے میدان میں بھی ناقابلِ تسخیر بن کر ابھرے۔ کیونکہ تاریخ کا سبق بڑا واضح ہے: جو قومیں دوسروں کی آگ میں ایندھن بنتی ہیں، وہ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں، اور جو توازن کے ساتھ اپنے مفاد کی جنگ لڑتی ہیں، وہی سرخرو ہوتی ہیں۔
ٹیگز: #MalikTouseefAhmed #PakistanStrategicPath #Geopolitics #PakistanEconomy #CPEC #Defense #UrduPointPress #MissileTechnology #EconomicBalance
خدارا ہمیں پاکستان سے بچائیں، طالبان حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

