​شیخوپورہ: گردوارہ سچا سودا میں بیساکھی کی تقریبات اختتام پذیر، بھارتی سکھ یاتریوں کا پاکستانی مہمان نوازی کو خراجِ تحسین

شیخوپورہ (رانابابرسلیم سے)سچا سودا میں گوردوارہ کے مقام پر سکھ مذہب کے اہم تہوار بیساکھی کی تین روزہ روح پرور تقریبات اختتام پذیر ہو گئیں۔تقریبات کا اختتام بھوگ کی مقدس رسم کے ساتھ ہوا، جس کے دوران پاکستان کی ترقی، سلامتی اور دنیا بھر میں امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بھارت سمیت مختلف ممالک اور اندرونِ ملک سے آئے ہزاروں سکھ یاتریوں نے متھا ٹیکی، شبد کیرتن، اشنان اور دیگر مذہبی رسومات میں بھرپور شرکت کی۔ بیساکھی تقریبات کے اختتام پر 2238بھارتی سکھ یاتری پارٹی لیڈر سردار سرجیت سنگھ کی قیادت میں سخت سیکیورٹی کے حصار میں ننکانہ صاحب سے خصوصی بسوں میں گوردوارہ سچا سودا فاروق آباد پہنچے جہاں وہ مذہبی رسومات ادا کرنے کے بعد گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال جائیں گے جہاں وہ14اپریل کو بیساکھی کی مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے۔ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ نے کہا کہ سکھ یاتریوں کو قیام کے دوران رہائش، خوراک، علاج معالجے اور سیکیورٹی سمیت مثالی سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم سکھ برادری سے دلی محبت رکھتی ہے اور یاتری امن و محبت کا پیغام لے کر واپس جا رہے ہیں۔روانگی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انہیں غیر معمولی پروٹوکول اور بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی محبت اور مہمان نوازی کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے، پاکستان ان کے لیے اپنے گھر جیسا ہے اور وہ بار بار یہاں آنا چاہتے ہیں۔یاتریوں نے حکومت پاکستان اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرامن اور محبت کرنے والی قوم کا ملک ہے جہاں انہیں مکمل عزت اور پیار ملا۔

بیساکھی میلہ میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دنیا بھر سے آئے سکھ یاتریوں نے قیام و طعام، ٹرانسپورٹ، سیکیورٹی اور دیگر بہترین انتظامات پرحکومت پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے حکام اور

تحسین پیش کیا۔یاتریوں نے کہا کہ پاکستان میں انہیں مثالی مہمان نوازی، پُرامن ماحول اور بہترین سہولیات میسر آئیں۔ ہریانہ سے آئے سکھ یاتریوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود کو مکمل طور پر محفوظ اور پرسکون محسوس کیا اور کسی قسم کے خوف یا دباؤ کا سامنا نہیں ہوا۔لدھیانہ سے آئی ج سویر کور نے پاکستان میں ملنے والے غیر معمولی پروٹوکول کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اتنا پروٹوکول اعلیٰ حکام کو بھی نہیں ملتا جتنا یہاں ہمیں ملا ہے۔ دہلی سے آئی رندیپ کور اور بنارس سے آئی دویندر کور نے بھی انتظامات اور شاندار استقبال کو یادگار قرار دیتے ہوئے دوبارہ آنے کی خواہش ظاہر کی۔دیگر یاتریوں نے بھی پاکستان کی مہمان نوازی کو دل سے سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں کی محبت اور عزت ان کے لیے ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

​عالمی امن کا مسیحا پاکستان: ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا، سفارتی کامیابی کی مکمل کہانی

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *