​عالمی امن کا مسیحا پاکستان: ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹل گیا، سفارتی کامیابی کی مکمل کہانی

دنیا جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دھوئیں میں گھری ہوئی تھی اور ہر لمحہ خطرہ بڑھ رہا تھا کہ یہ محاذ ایٹمی جنگ میں بدل جائے گا

پاکستان اقوام عالم کا مسیحا بن گیا
دنیا جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے دھوئیں میں گھری ہوئی تھی اور ہر لمحہ خطرہ بڑھ رہا تھا کہ یہ محاذ ایٹمی جنگ میں بدل جائے گا اسی وقت پاکستان نے خاموش مگر مضبوط حکمت عملی اپنائی اور ایک ایسی سفارتی کامیابی حاصل کی جو آنے والے برسوں تک یاد رکھی جائے گی اس کامیابی نے نہ صرف عالمی خطرات کو کم کرنے میں مدد کی بلکہ ممکنہ ایٹمی تصادم کے خوفناک امکانات کو فوری طور پر روکامغربی طاقتیں اور مشرقی طاقتیں بھی اگلے لمحے اس تنازعہ کا شکار ہونے والی تھیں جس سے دنیا میں ایٹمی تصادم کا نقشہ بن رہا تھا اور ہر ملک اپنے مفادات کے سہارے چل رہا تھا پاکستان نے خاموشی سے پیغام رسانی شروع کی جو دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد پیدا کر سکتی تھی اسلام آباد نے اپنے دوہرے تعلقات کو استعمال کیا۔ واشنگٹن کے ساتھ فرینڈشپ اور تہران کے ساتھ سٹریٹجک کوآرڈینیشن نے ایسا ماحول پیدا کیا جسے بہت سے ماہرین ناممکن سمجھ رہے تھےاس صورت حال میں ایران نے کئی بار براہ راست مذاکرات سے انکار کیا لیکن پاکستان کی مسلسل کوششوں نے اسے بالآخر عارضی جنگ بندی پر راضی کر لیا ایران کی قیادت نے عوام کو تحفظ دینے کے لیے یہ قدم اٹھایا اور یہی فیصلہ ممکنہ ایٹمی ٹکراو کے خطرے کو کم کرنے میں کلیدی رہا واشنگٹن میں سخت بیانات کے باوجود پاکستان کی ڈپلومیسی نے امریکی پالیسی پر اثر ڈالا اور انہیں دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کی راہ پر لایا اسی دوران خطے کے دیگر کھلاڑی جیسے سعودی عرب، ترکی، مصر اور متحدہ عرب امارات نے اپنی بامعنی پوزیشن سے سٹریٹجک لیوریج قائم کرنے میں مدد کی یہ جنگ بندی وقتی ضرور ہے لیکن اس نے ایک ممکنہ عالمی آفت کے آغاز کو روکا اگر پاکستان نے یہ قدم نہ اٹھایا ہوتا تو حالات اس حد تک پہنچ سکتے تھے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ٹکراو براہ راست ایٹمی تصادم میں بدل سکتا اس سے خلیج فارس، توانائی کے عالمی راستے اور پوری دنیا کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی تھی یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ثالثی صرف اہم نہیں بلکہ ضروری بھی تھی وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا کردار اس کامیابی میں نہایت اہم رہا انہوں نے اپنی باقی مصروفیات کو پیچھے رکھتے ہوئے متوازن اور غیر جارح رویہ اختیار کیا۔ ان کی ڈپلومیسی میں اعتدال، تحمل اور عالمی ذمہ داری واضح تھی انہوں نے اپنے خطابات میں ہمیشہ انسانیت اور عالمی استحکام کو اہمیت دی اور اسی وجہ سے دونوں طاقتوں نے ان کی سوچ کو سنجیدگی سے لیا ان کی حکمت عملی میں کانفیڈنس بلڈنگ اور ڈپلومیٹک سگنلنگ نمایاں تھے جس سے دونوں فریقوں کے لیے مذاکرات کا ماحول بہتر ہوا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے عسکری اور سفارتی محاذ کو یکجا کرتے ہوئے غیر معمولی کردار ادا کیا ان کی حکمت عملی میں بیانات سے زیادہ بیک چینلز اور خفیہ رابطے اہم تھے ان کی مسلسل پیغام رسانی نے دونوں ملکوں کو ایک مشترکہ فریم ورک میں سوچنے پر مجبور کیا اور سب کے فائدے اور تحفظات کو یکجا کیا ان کی ڈپلومیسی میں بیک چینل کمیونیکیشن اور کانفیڈنس رینفورسمنٹ کی مہارت واضح تھی جس نے عالمی طاقتوں کو سنجیدگی سے امن کے روڈ میپ پہ سوچنے پر مجبور کیا اسی تسلسل میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کردار انتہائی اہم رہا وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار صاحب نے اپنی غیر معمولی ڈپلومیٹک فسیلیٹیشن کے ذریعے مختلف فریقوں کے درمیان بیک چینل مذاکرات کو مؤثر بنایا، اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کیا اور خطے میں توازن قائم رکھنے کے لیے اپنے رابطوں اور حکمت عملی کو کامیابی سے استعمال کیا اور گلوبل اور ریجنل پاورز کے درمیان مضبوط کوآرڈینیشن کو قائم کیا جو بہتری حکمت عملی طور پہ کام کر گئی انہوں نے انتھک محنت سے مسلسل دوروں اور ملاقاتوں سے ریجنل اور گلوبل پاورز کو ایک مشترکہ لائحہ عمل پہ سوچنے پہ مجبور کیا اس جنگ بندی کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ اگر پاکستان نے یہ رول نہ نبھایا ہوتا تو خطہ ایٹمی ٹکراو کے دہانے پر پہنچ سکتا تھا ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی خلیج فارس، توانائی کے عالمی راستے اور خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی تھی پاکستان کی ثالثی ایک فائر بریکر کا کردار ادا کر گئی جس نے پوری دنیا کو ممکنہ تباہی سے بچایاپاکستان کی یہ سفارتی فتح صرف ایک عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئے عالمی تاثر کی شروعات ہے اس کامیابی نے یہ دکھایا کہ ڈپلومیٹک فورسائٹ اور اسٹریٹجک پیشنس کے ذریعے کسی بھی بحران کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے عالمی سطح پر اس سے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی، خطے میں اقتصادی اور سلامتی کے لیے بہتر ماحول پیدا ہوا اور عالمی کھلاڑی اب پاکستان کو ایک سنجیدہ میڈیئیٹر کے طور پر دیکھ رہے ہیں میں جب اس کامیابی کو سوچتی ہوں تو مجھے گہرا احساس ہوتا ہے ہمیں کبھی بھی اپنے ملک کی خاموش قوت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے پاکستان نے اپنے استقلال اور فہم کی بدولت دشمنوں کو قریب لانے اور عالمی امن کے دروازے کھلے رکھنے کی صلاحیت دکھائی یہ کامیابی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حکمت، صبر اور دانش مندی کی طاقت کبھی کم نہیں ہوتی اور کبھی کبھی بظاہر چھوٹے اقدامات بھی عالمی امن کی ضمانت بن سکتے ہیں آج ہم بحثیت پاکستانی عالمی دنیا کی نظر میں انسانیت کے مسیحا ہیں شہباز شریف، عاصم منیر اور اسحاق ڈار نے پہلے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا پھر جنگ بندی کروا کر پوری اقوام عالم کو ڈیفالٹ سے بچایا جو کہ عالمی دنیا پہ ایک بڑا احسان ہے۔

​ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

لکھاری کا تعارف: میڈم شازیہ فرید

زیرِ نظر تحریر کی مصنفہ میڈم شازیہ فرید ہیں، جو ممبر نیشنل اسمبلی (MNA) ہونے کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ کی ایک انتہائی معتبر اور ہر دلعزیز سیاسی شخصیت ہیں۔ آپ نہ صرف پاکستانی سیاست میں فعال اور عملی کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی گہری نظر رکھتی ہیں۔ آپ کی یہ تحریر موجودہ عالمی منظر نامے میں سفارتی بصیرت کا ایک بہترین شہکار ہے۔

نوٹ: لکھاری کے خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی ادارہ ان کا ذمہ دار ہے۔
Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *