حافظ آباد: صحافیوں کا عدم تحفظ لمحہ فکریہ ہے، سید ظہیر عباس شاہ کا تحفظ کا مطالبہ

صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، آزادیِ صحافت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: سید ظہیر عباس شاہ

حافظ آباد: صحافیوں کا عدم تحفظ لمحہ فکریہ ہے، سید ظہیر عباس شاہ کا تحفظ کا مطالبہ

حافظ آباد یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے ضلعی صدر سید ظہیر عباس شاہ نے صحافیوں کے بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافت محض ایک پیشہ نہیں بلکہ “سچ کی امانت” ہے، لیکن آج اسی امانت کے محافظ خود غیر محفوظ ہیں۔​اپنے ایک خصوصی بیان میں سید ظہیر عباس شاہ کا کہنا تھا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کو آئے روز دھمکیوں، غیر ضروری دباؤ اور تشدد کے واقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب ریاست کے ستون (صحافت) کو کمزور کیا جاتا ہے یا اسے خوف زدہ کیا جاتا ہے، تو یہ براہِ راست جمہوریت اور آزادیِ اظہارِ رائے پر حملہ ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔”​انہوں نے حکومتِ وقت اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ ​صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر قانون سازی کی جائے۔​فرائض کی ادائیگی کے دوران صحافیوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔​ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں صحافی بلا خوف و خطر حقائق عوام تک پہنچا سکیں۔​سید ظہیر عباس شاہ نے صحافتی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حقوق کی جنگ اکیلے نہیں لڑی جا سکتی۔ انہوں نے کہا​”ہمیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کے فلسفے کو اپنانا ہوگا۔ ایک مضبوط اور متحد آواز ہی نظام میں تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔”​بیان کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ سچ بولنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا ہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان اور انصاف کا تقاضا ہے۔ اگر آج ہم نے صحافت کی آواز کو دبنے دیا، تو کل پورا معاشرہ خاموش کر دیا جائے گا۔

ٹرمپ کے ہوائی قلعے اور سمندر کے تلخ حقائق: ‘سند یافتہ چھڈو’ کے خطاب کا مکمل پوسٹ مارٹم


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *