ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد
ایران کے پاس وہ ٹیکنالوجی موجود ہے جو ریڈاروں کی آنکھ میں دھول جھونک کر ہدف کو باآسانی نشانہ بنا سکتی ہے

تحریر: ملک توصیف احمد
مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے جہاں دہائیوں سے قائم “ناقابلِ تسخیر” ہونے کے بت پاش پاش ہو رہے ہیں۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ دنوں میں جو ’سپر جھٹکے‘ دیے ہیں، انہوں نے نہ صرف اسرائیل کے دفاعی غرور کو خاک میں ملا دیا بلکہ دنیا کی واحد سپر پاور، امریکہ کو بھی اپنی عسکری صفوں میں ہنگامی تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ایران نے بحیرہ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے “یو ایس ایس ابراہیم لنکن” کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ اب خلیجی پانیوں میں کسی کی اجارہ داری محفوظ نہیں۔ یہ محض ایک حملہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے پیغام تھا کہ ایران کے پاس وہ ٹیکنالوجی موجود ہے جو ریڈاروں کی آنکھ میں دھول جھونک کر ہدف کو باآسانی نشانہ بنا سکتی ہے۔ جزیرہ قشم کے قریب دشمن کا لڑاکا طیارہ مار گرانا اس عزم کی عکاسی ہے جس نے پینٹاگون کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔میدانِ جنگ کی ناکامیوں نے واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں سیاسی قیادت اور عسکری اداروں کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے، جس کی دو بڑی وجوہات نظر آتی ہیں ۔ عسکری قیادت اور انٹیلی جنس سربراہان زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے اس طویل جنگ کے خلاف ہیں اور سیاسی قیادت پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس دلدل سے نکلیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو مشرقِ وسطیٰ سے فوری “فتح یاب” ہو کر نکلنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی اس جلد بازی نے یہ تاثر دیا ہے کہ وہ بری طرح پھنس چکے ہیں اور شدید پریشان ہیں۔اسی ہڑبڑاہٹ کا نتیجہ ہے کہ امریکہ میں آرمی چیف اور اہم جرنیلوں کی تبدیلی کی خبریں گرم ہیں، جبکہ اسرائیل میں نیتن یاہو اور موساد چیف کے درمیان شدید اختلافات کی وجہ سے انٹیلی جنس سربراہ منظر نامے سے ہی غائب ہیں۔ یہ صورتحال ثابت کرتی ہے کہ ایران ان کی توقعات سے کہیں زیادہ “مزاحمت اور مرمت” کر رہا ہے۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بھی ایران کو خاموش تماشائی بن کر نہیں دیکھا۔ اسرائیل نے ایران کے اندرونی دفاعی حصار کو توڑتے ہوئے حساس فوجی مراکز اور میزائل سازی کے پلانٹس کو نشانہ بنایا ہے، جس سے ایران کے کئی جدید ایئر ڈیفنس سسٹم ناکارہ ہو چکے ہیں۔ معاشی محاذ پر امریکی پابندیوں نے ایرانی کرنسی کو تاریخی گراوٹ سے دوچار کر کے اندرونی طور پر مہنگائی کا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ایران نے جنگ کا دائرہ کار خلیجی ممالک تک پھیلا کر عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو مفلوج کرنے کی کوشش کی ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی اہم تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملوں نے پورے خطے کو سیکیورٹی الرٹ پر ڈال دیا ہے۔ ان حملوں نے خلیجی ممالک کو دفاعی طور پر مزید چوکس کر دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل اپنے سفارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی تگ و دو میں ہے۔ایک طرف سپر پاور امریکہ کی سیاسی قیادت کی جانب سے آرمی چیف کی تبدیلی، تو دوسری طرف نیتن یاہو کے اپنے انٹیلی جنس سربراہ کے ساتھ اختلافات—یہ سب پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ ایران کے ‘سپر جھٹکوں’ نے ان کے اعصاب کو مفلوج کر دیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ اب ایک ایسے اکھاڑے میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں بقا کی جنگ میں ہر فریق ہر حد پار کرنے کو تیار ہے۔
ٹرمپ کے ہوائی قلعے اور سمندر کے تلخ حقائق: ‘سند یافتہ چھڈو’ کے خطاب کا مکمل پوسٹ مارٹم
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress
نوٹ: اس تحریر میں بیان کردہ تمام تجزیاتی نکات اور آراء مصنف کی ذاتی تحقیقی بصیرت پر مبنی ہیں، جس کا مقصد قارئین کو عالمی اور علاقائی بدلتی ہوئی صورتحال سے باخبر رکھنا ہے۔ ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
مصنف کا تعارف
ملک توصیف احمد کا شمار پاکستان کے سینئر اور متحرک صحافیوں میں ہوتا ہے۔ آپ گزشتہ 19 سال سے زیادہ عرصے سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور بطور تحقیقاتی صحافی و کالم نگار اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔
- موجودہ ذمہ داریاں: آپ نجی ٹی وی چینل ‘کوہ نور نیوز’ کے گوجرانوالہ میں بیورو چیف اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) ورکرز کے منتخب سیکرٹری جنرل ہیں۔
- ادارتی خدمات: آپ اردو نیوز پورٹل ‘اردو پوائنٹ پریس’ اور ‘ایم ٹی اے میڈیا سلوشنز’ کے سی ای او (CEO) ہیں۔
- اعزازات: صحافتی خدمات کے اعتراف میں آپ کو حکومتِ پنجاب کی جانب سے بہترین کالم نگار کا ایوارڈ (2017) اور پرویز شوکت ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
- سابقہ خدمات: آپ پریس کلب راہوالی اور گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔
#MalikTouseefAhmed

