ایران امریکہ ٹکراؤ: 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ، طیارے تباہ اور امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف عوامی بغاوت

تہران/واشنگٹن (عالمی ڈیسک)
مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جہاں ایک طرف تہران اور اسلام آباد کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطے جاری ہیں، وہیں دوسری جانب میدانِ جنگ سے امریکی افواج کے بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے دشمن کو بڑا سرپرائز دے دیا ہے۔کشیدگی کے اس ماحول میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے والے پاکستانی سفارت کاری کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی تنصیبات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ایرانی صدر نے مشکل وقت میں پاکستان کے مثبت اور برادرانہ کردار کی بھرپور تعریف کی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 مارچ کو کیے گئے حملوں میں امریکہ کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان جوابی کارروائیوں میں 500 امریکی فوجی ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے ایک امریکی F-16 لڑاکا طیارہ اور ایک MQ-9 ریپر ڈرون بھی مار گرایا ہے۔ سعودی عرب میں واقع ایک فوجی اڈے پر موجود امریکی E-3 ارلی وارننگ طیارے کی تباہی کی تصاویر نے عالمی عسکری حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ ایرانی صنعتوں یا پانی کے ذخائر کو نشانہ بنایا تو نتیجہ اس کی سوچ سے بھی زیادہ بھیانک ہوگا۔دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں نے خود امریکہ کے اندر ایک بڑی عوامی بغاوت کو جنم دے دیا ہے۔ امریکہ کے 3000 شہروں میں “نو کنگز” (No Kings) کے عنوان سے ہونے والے مظاہروں میں 70 لاکھ سے زائد امریکی شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے وائٹ ہاؤس اور فوجی اڈوں کی جانب مارچ کیا اور ایران کے ساتھ جنگ فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ ایک ایسی جنگ مسلط کر رہے ہیں جس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، اور وہ پوری دنیا کو ایٹمی بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔اس سنگین صورتحال نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ اب صرف ایران تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی سیاست اور امریکی داخلی نظام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

