امریکہ میں عوامی غیظ و غضب کا سمندر: 70 لاکھ افراد سڑکوں پر، “نو کنگز” مظاہروں نے ٹرمپ انتظامیہ کی بنیادیں ہلا دیں

امریکہ میں نو کنگز مظاہرے: 70 لاکھ افراد سڑکوں پر، ٹرمپ اور ایران جنگ کے خلاف عوامی بغاوت

​نیویارک/واشنگٹن (خصوصی رپورٹ)امریکہ کی تاریخ میں احتجاج کا ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے۔ ہفتے کے روز امریکہ کی تمام 50 ریاستوں اور دنیا کے 16 سے زائد ممالک میں “نو کنگز” تحریک کے تحت لاکھوں افراد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، خاص طور پر ایران کے خلاف “غیر قانونی جنگ” اور تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن آئی سی آئی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ امریکی تاریخ کا سب سے بڑا مربوط احتجاج ثابت ہوا ہے جس میں صرف امریکہ کے اندر 3000 سے زائد مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں۔​”نو کنگز” اتحاد، جس میں ‘ان ڈیویزیبل’ اور ‘50501’ جیسی بڑی عوامی تنظیمیں اور لیبر یونینز شامل ہیں، نے اس تیسرے بڑے احتجاجی دن کا اہتمام کیا۔ آرگنائزرز کا دعویٰ ہے کہ اس احتجاج میں شرکت کرنے والوں کی تعداد پچھلے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ نیویارک کی سڑکوں پر مظاہرین کا ایسا رش تھا کہ مشہور سیونتھ ایونیو پر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ واشنگٹن ڈی سی میں مظاہرین نے لنکن میموریل سے نیشنل مال تک مارچ کیا اور وائٹ ہاؤس کے قریب جا کر صدر ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کی۔​اس بار مظاہروں کا سب سے بڑا محور “ایران کے خلاف جنگ” کی مخالفت تھا۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی نیشنل کوآرڈینیٹر سارہ پارکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “گزشتہ احتجاج کے بعد سے گیس اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ حکومت ایران میں ایک غیر قانونی جنگ لڑ رہی ہے۔ امریکی عوام اب خاموش نہیں رہیں گے۔” شکاگو کے گرینٹ پارک میں ہزاروں افراد نے “ٹرمپ مسٹ گو” کے نعرے لگائے، جہاں میئر برینڈن جانسن نے بھی خطاب کرتے ہوئے تحریک کی حمایت کی۔​مظاہرین نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے پرتشدد کریک ڈاؤن کی بھی شدید مذمت کی۔ خاص طور پر منیسوٹا کے جڑواں شہروں (سینٹ پال اور منیا پولس) میں ہزاروں لوگ تارکین وطن کے حق میں سڑکوں پر نکلے، جہاں حال ہی میں فیڈرل ایجنٹس کی کارروائیوں کے دوران ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ سینیٹر برنی سینڈرز اور جین فونڈا جیسی معروف شخصیات نے ان مظاہروں میں شرکت کر کے تحریک کو مزید تقویت دی۔​یہ احتجاج صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹوکیو، پیرس، برلن، روم، لندن اور سڈنی میں بھی “نو کنگز” کی ریلیاں نکالی گئیں۔ لندن میں ہزاروں افراد نے نفرت کی سیاست کے خلاف مارچ کیا، جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بڑی ٹریڈ یونینز کی حمایت حاصل تھی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ میں “بادشاہت” یا آمریت کے قیام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے اور یہ جمہوری جدوجہد 28 مارچ کے بعد بھی جاری رہے گی۔​دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور ریپبلکن قیادت نے ان مظاہروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں “ٹرمپ ڈرینجمنٹ تھراپی سیشنز” قرار دیا ہے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا سڑکوں پر آنا ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ بن سکتا ہے۔

امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *