شیخوپورہ محکمہ مال میں بڑی کارروائی: ڈی سی کی مدعیت میں 6 اہلکار گرفتار | اردو پوائنٹ پریس
محکمہ مال شیخوپورہ کے 6 افسران و ملازمین کرپشن اور اختیارات کے ناجائز اسٹعمال میں گرفتار
شیخوپورہ (رانابابرسلیم سے)
ڈپی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ کی کرپٹ مافیا کے خلاف بڑی کاروائی
۔عوامی حلقوں کا ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ کو خراج تحسین۔
اینٹی کرپشن پولیس شیخوپورہ نے ڈپٹی کمشنر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔نٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن شیخوپورہ نے محکمہ مال کے افسران کے خلاف کرپشن،جعل سازی،جھوٹی دستاویزات،سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال،غیر قانونی طریقہ سے قانون پر صحیح عمل نہ کرنے،بےضابطگیوں،باعدگیوں کے الزام میں محکمہ مال شیخوپورہ کے گرداور اکرم شاہ،پٹواری سہیل ورک،ریڈر تحصیلدار زاہد یعقوب،پرائیویٹ منشی محمد یاسین المعروف گولی،لال دین ریٹائرڈ سنئیر کلرک،اور محمد عمران ورک سپیشل جی پی اے کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا ہے،یہ مقدمہ ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا،جن کی ہدایت پر اراضی پر جعل سازی سے قبضہ کرنے کی بابت قائم انکوائری کمیٹی تشکیل دی،اس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں درج کیا گیا،بتایا گیا ہے کہ گرداور اکرم شاہ،سہیل ورک پٹواری،ریڈر ذاہد یعقوب،لال دین ریٹائرڈ سنئیر کلرک ، منشی پٹواری یاسین عرف گولی کو گرفتار کیا گیا ہے، سی ای او انٹی گریشن خاور عباس کے مطابق گرفتار ملزمان سنئیر سول جج خدا یار کی عدالت میں پیش کئے گئے،جہاں سے ایک دن کا ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے،مذکورہ ملزمان نے موضع مد والا خورد میں معروف زمیندار کاشان الرحمن راجہ کی اراضی کا جعلی آرڈر تیار کیا،جس کا علم ہونے پر کاشان الرحمن راجہ نے ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کو تحریری طور پر شکایت کی،جس کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ شاہد عمران مارتھ نے فوری طور ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس نے اپنی انکوائری رپورٹ میں مذکور افسران و ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی،جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن شیخوپورہ نے ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے،ذرائع کے مطابق
ملازمین سے مزید حقائق سامنے آنے کا امکان ہے،یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے،ذرائع کے مطابق شیخوپورہ کی تاریخ میں محکمہ مال شیخوپورہ میں اتنی بڑی قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے،ذرائع کے مطابق ملزمان نے پٹوار ایکٹ 1887 کی آڑ میں جعلی اور پرانی تاریخوں کے بے دخلی کیسز یا من گھڑت ریکارڈ متنازعہ جائیداد کے قبضہ تیار کیا،اور پھر غیر قانونی مداخلت کے ارادے سے مجاز سول کورٹ سے جاری کردہ حکم امتناعی کے باوجود قانونی اختیار کا جھوٹا تاثر پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا،ایسے اقدامات سنگین جرائم کے زمرے میں آتے ہیں،
ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

