بارود کی بو، سسکتی انسانیت: تیسری عالمی جنگ اور انسانی بقا کا سوال | تحریر: افتخار بٹ

تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے غاروں سے نکل کر آسمان کی وسعتوں تک کا سفر تو طے کر لیا

بارود کی بو، سسکتی انسانیت
​تحریر: افتخاربٹ
​تاریخ کے جھروکوں میں جھانک کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے غاروں سے نکل کر آسمان کی وسعتوں تک کا سفر تو طے کر لیا، مگر اپنی فطرت میں چھپی درندگی کو ختم نہ کر سکا۔ آج کی دنیا جس مقام پر کھڑی ہے، اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایک طرف انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے ہیں، جمہوریت کے گن گائے جاتے ہیں اور دوسری طرف ہوسِ زر اور تسلط کی ایسی جنگ چھڑی ہے جس نے پوری دنیا کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اب یہ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، کیونکہ اب مقابلہ تلواروں کا نہیں، ایٹمی تباہی کا ہے!​آج کا دور “گلوبل ویلیج” کا دور ہے، جہاں ایک ملک کی سرحد پر چلنے والی گولی دوسرے ملک کے غریب کے چولہے کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح دور دراز علاقوں میں ہونے والے تنازعات نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جب سپر پاورز اپنے مفادات کی جنگ لڑتی ہیں، تو اس کا خمیازہ تیسری دنیا کے ممالک کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ڈالر کی اڑان ہو یا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آگ، یہ سب اس جنگی جنون کا شاخسانہ ہے۔ ایک طرف ترقی یافتہ ممالک کے دفاعی بجٹ کھربوں ڈالر تک جا پہنچے ہیں، جبکہ دوسری طرف افریقہ اور ایشیا کے پسماندہ علاقوں میں کروڑوں انسان پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ کیا یہ انسانیت کی معراج ہے کہ ہم مارنے والے ہتھیار تو سیکنڈوں میں بنا لیتے ہیں، مگر بھوک مٹانے کا کوئی مستقل حل نہیں نکال پاتے؟​پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کی داستانیں سن کر آج بھی روح کانپ اٹھتی ہے، مگر یاد رکھیے! اب اگر تیسری عالمی جنگ چھڑی تو وہ اس سے ہزار گنا زیادہ ہولناک ہوگی۔ آج ہمارے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو براعظموں کا فاصلہ منٹوں میں طے کر لیتے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی نے جنگ کو ایک ایسا بھیانک رخ دے دیا ہے جہاں انسانی جان کی قیمت ایک بٹن دبانے سے بھی کم رہ گئی ہے۔ سب سے بڑا خطرہ ایٹمی ہتھیاروں کا ہے، جو اگر ایک بار استعمال ہو گئے تو نہ صرف انسان، بلکہ چرند، پرند، نباتات اور پوری زمین کا ایکوسسٹم ملیا میٹ ہو جائے گا۔ ہم بارود کے جس ڈھیر پر بیٹھے ہیں، وہاں امن کی بات کرنا اب محض خواہش نہیں بلکہ بقا کا واحد راستہ بن چکا ہے۔


​پناہ گزینوں کے بڑھتے قافلے اور انسانی المیے

جنگ کبھی تنہا نہیں آتی، یہ اپنے ساتھ ہجرت، بے گھری اور رسوائی لے کر آتی ہے۔ شام، فلسطین، عراق اور یوکرین سے اٹھنے والے پناہ گزینوں کے قافلے عالمی ضمیر کے منہ پر تمانچہ ہیں۔ جب ایک ہنستا بستا شہر کھنڈر میں بدلتا ہے، تو صرف عمارتیں نہیں گرتیں، بلکہ صدیوں کی تہذیب، خواب اور مستقبل دفن ہو جاتے ہیں۔ کیمپوں میں سسکتی زندگی، سمندر کی لہروں کی نذر ہونے والے معصوم بچے اور اپنوں سے بچھڑ جانے والی مائیں کیا عالمی طاقتوں کو نظر نہیں آتیں؟ ان پناہ گزینوں کے بوجھ سے وہ ممالک بھی ہانپ رہے ہیں جہاں یہ پناہ لیتے ہیں، جس سے سماجی و معاشی تناؤ جنم لے رہا ہے۔​ہم پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کی صورت میں قدرت کے غیظ و غضب کا سامنا کر رہے ہیں۔ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، جنگلات جل رہے ہیں اور سمندر کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ ایسے میں جنگوں کے دوران ہونے والے دھماکے اور زہریلی گیسوں کا اخراج جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔ بارود کا دھواں اوزون کی تہہ کو چیر رہا ہے، جس سے زمین کا درجہ حرارت ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم نے جنگوں کو نہ روکا تو شاید دشمن کے ہتھیاروں سے پہلے قدرت ہمیں نیست و نابود کر دے گی۔


​عالمی اداروں کی بے حسی اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس”

اقوامِ متحدہ جیسے ادارے آج صرف تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ “ویٹو پاور” نے انصاف کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ جب طاقتور ممالک کے مفادات کا معاملہ آتا ہے تو عالمی قوانین موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ اگر دنیا میں واقعی امن قائم کرنا ہے تو انصاف کے دوہرے معیار کو ختم کرنا ہوگا۔ جب تک غریب اور امیر ملک کے لیے قانون الگ الگ رہے گا، جنگ کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا۔​وقت کی پکار ہے کہ دنیا بھر کے دانشور، سیاستدان اور مقتدر حلقے ہوش کے ناخن لیں۔ ہمیں نفرتوں کی خندقیں پاٹنے اور محبتوں کے پل تعمیر کرنے ہوں گے۔ دنیا کو اسلحہ خانوں کی نہیں، لیبارٹریوں اور ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں بارود کی بو سے پاک ایسی فضا چاہیے جہاں ہماری آنے والی نسلیں خوف کے سائے کے بغیر سانس لے سکیں۔​یاد رکھیے! اگر ہم نے آج امن کے لیے آواز نہ اٹھائی، تو کل تاریخ کے پاس ہمیں معاف کرنے کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہوں گے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ خود سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اب فیصلہ عالمی قیادت کے ہاتھ میں ہے: ہوش مندی یا ہولناک بربادی؟

​ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد

کالم نگار کا تعارف

افتخار علی بٹ ملک کے معروف کالم نگار اور رائٹرز کلب کے چیئرمین ہیں۔ آپ گزشتہ 35 سال سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور روزنامہ پاکستان لاہور سمیت ملک کے بڑے اخبارات میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ آج کل آپ کی تحاریر باقاعدگی سے روزنامہ خبریں کی زینت بن رہی ہیں۔

اہم نوٹ (قانونی وضاحت):

کالم نگار کے پیش کردہ خیالات، حقائق اور تجزیہ ان کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے (اردو پوائنٹ پریس) کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ ادارہ کسی بھی تحریر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی قانونی پیچیدگی یا معلومات کی صحت کا ذمہ دار نہیں ہے۔


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *