​کالم کا عنوان (SEO Title): خرم دستگیر خان: ن لیگی قلعہ یا سیاسی آبنائے ہرمز؟ | تحریر: محمد سجاد ڈار

​ خرم دستگیر خان کا شہر ن لیگی قلعہ یا سیاسی آبنائے ہرمز؟

“نوبل کاز “
تحریر: محمد سجاد ڈار

​پاکستان کی سیاسی بساط پر پنجاب کا دل کہلانے والا شہر گوجرانوالہ ہمیشہ سے اقتدار کی جنگ کا مرکز رہا ہے۔ پہلوانوں کے اس شہر نے جہاں ملک کو نامور کھلاڑی اور صنعت کار دیے، وہی یہاں کی سیاست نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کو کئی قد آور شخصیات سے نوازا۔ انہی میں سے ایک نمایاں نام خرم دستگیر خان کا ہے، جو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی نائب صدر، سابق وفاقی وزیر اور ایک ایسے سیاستدان ہیں جن کی پہچان ان کی علمی قابلیت اور شائستہ بیانی رہی ہے۔ لیکن آج خرم دستگیر خان اپنی سیاسی زندگی کے اس کٹھن موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ماضی کی کامیابیاں اور خاندانی نام و نمود اب کافی نہیں رہے، بلکہ بدلتے ہوئے وقت نے ان کے سامنے بقا کا ایک نیا اور کڑا چیلنج رکھ دیا ہے۔ یہ سفر موروثی وراثت کے سائے سے نکل کر جدید عوامی قیادت کی کٹھن منزل تک پہنچنے کا تقاضا کرتا ہے۔
​خرم دستگیر خان نے سیاست کا آغاز اپنے والد، حاجی غلام دستگیر خان کے زیرِ سایہ کیا، جو میاں نواز شریف کے ان گنت وفادار ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ خرم دستگیر نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد امریکہ کے نامور تعلیمی اداروں سے معاشیات اور انجینیئرنگ کی ڈگریاں حاصل کیں، جس نے ان کی شخصیت کو ایک روایتی سیاستدان کے بجائے ایک وژنری ٹیکنوکریٹ کا روپ دیا۔ انہوں نے 2008 سے مسلسل پارلیمانی سیاست میں اپنا لوہا منوایا اور وفاق میں دفاع، تجارت اور توانائی جیسی کلیدی وزارتوں کا قلمدان سنبھال کر یہ ثابت کیا کہ وہ پیچیدہ ریاستی امور کو سمجھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا پارلیمانی کیریئر قابلیت اور نظم و ضبط کی ایک عمدہ مثال رہا ہے جس نے انہیں اپنی جماعت کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل کیا۔
​بطور وفاقی وزیرِ تجارت، خرم دستگیر خان کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے یورپی یونین سے پاکستان کے لیے جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس حاصل کرنے میں جو محنت کی، اس نے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کو اربوں ڈالر کا سہارا دیا۔ وزارتِ دفاع میں انہوں نے ملکی سیکیورٹی پالیسیوں کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، جبکہ وزارتِ توانائی کے دور میں انہوں نے گوجرانوالہ سمیت پورے ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام کو جدید بنانے اور نئے گرڈ اسٹیشنز کے قیام کے لیے گراں قدر کام کیے۔ مقامی سطح پر گوجرانوالہ کو موٹروے سے جوڑنے کے لیے لنک روڈ کی منظوری، شہر کے مصروف ترین چوکوں پر فلائی اوورز کی تعمیر، اور سرکاری تعلیمی اداروں میں جدید آئی ٹی لیبز کا قیام ان کے وہ کام ہیں جن کا فائدہ آج بھی شہر کے لاکھوں شہری اٹھا رہے ہیں۔ ان تمام منصوبوں نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو ایک نئی سمت دی اور ترقی کے نئے باب وا کیے۔
​لیکن ان تمام خدمات اور ریکارڈ ترقیاتی کاموں کے باوجود، 2024 کے عام انتخابات نے ایک ایسا نقشہ کھینچا جس کی توقع خود دستگیر خاندان کو بھی نہ تھی۔ گوجرانوالہ، جسے دہائیوں سے مسلم لیگ (ن) کا ناقابلِ تسخیر قلعہ اور “منی جاتی امرا” کہا جاتا تھا، وہاں خرم دستگیر کی شکست نے سیاسی ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر دیا۔ اس شکست کے پیچھے جہاں عوامی بیزاری اور معاشی حالات تھے، وہیں کچھ ایسے “غیر مرئی عوامل” اور پسِ پردہ محرکات بھی تھے جن کا تذکرہ سیاسی حلقوں میں آج بھی دبے لفظوں میں کیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خرم دستگیر کی شکست میں ایک بڑا ہاتھ ان کی اپنی جماعت کے گرد بنتی “روایتی سیاست” کا تھا۔ عوام میں یہ تاثر جڑ پکڑ چکا تھا کہ سیاسی فیصلے، پارٹی ٹکٹ اور ترقیاتی ثمرات صرف ایک مخصوص اور محدود حلقے تک سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ جب کسی حلقے کے نظریاتی سیاسی کارکن کو یہ محسوس ہو کہ اس کی برسوں کی محنت اور قربانی کا صلہ صرف ایک مخصوص گروہ تک محدود ہے، تو وہ دلبرداشتہ ہو کر خاموش ہو جاتا ہے۔
​اس کے ساتھ ساتھ، نوجوان ووٹرز کی ایک بڑی کھیپ، جو ڈیجیٹل دور کی پیداوار ہے، وہ اب پرانے نعروں اور روایتی طرزِ تخاطب سے متاثر نہیں ہوتی۔ خرم دستگیر کی سیاست جہاں سنجیدہ اور علمی تھی، وہیں ان کے مدمقابل ابھرنے والی قیادت نے سوشل میڈیا اور جذباتی بیانیے کے ذریعے ووٹر کے دل میں جگہ بنا لی۔ شکست کے اسباب میں ایک اور اہم پہلو ان کی وزارتِ توانائی کے دوران بجلی کی قیمتوں میں ہونے والا ہوش ربا اضافہ تھا۔ اگرچہ یہ فیصلے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے ناگزیر تھے، لیکن گوجرانوالہ کا عام شہری، جو مہنگائی کی چکی میں پس رہا تھا، اس نے اس معاشی بوجھ کا سارا غصہ ووٹ کی صورت میں نکالا۔ عوام نے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو روزمرہ کی مہنگائی کے ترازو میں تولا اور نتیجہ ن لیگ کے خلاف نکلا۔ یہ ایک واضح پیغام تھا کہ سڑکیں اور پل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن پیٹ کی آگ بجھانا اور عام آدمی کی جیب پر بوجھ کم کرنا سیاست میں اولین اہمیت رکھتا ہے۔
​اس سیاسی منظرنامے کا ایک اور رخ بھی ہے جس کا تعلق “اسٹیبلشمنٹ” اور “سیاسی بساط کے اصل کھلاڑیوں” سے ہے۔ خرم دستگیر خان، جو ہمیشہ سے پارلیمانی بالادستی اور سویلین اقتدار کی مضبوطی کے حامی رہے ہیں، بعض اوقات اپنے بیانیے میں اس قدر واضح ہو جاتے تھے کہ وہ مروجہ سیاسی مصلحتوں کی حدود کو چھونے لگتے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر عام ہے کہ جب فیصلہ ساز قوتوں نے گوجرانوالہ جیسے حساس اور صنعتی شہر میں نئے تجربات کرنے کا فیصلہ کیا، تو ن لیگ کے اس مضبوط برج کی فصیلوں کو خاموشی سے کمزور کیا گیا۔ مخالفین کو وہ سیاسی “اسپیس” فراہم کی گئی جس کا تصور پہلے محال تھا۔ انتخابی عمل کے دوران مخصوص حلقوں میں “خاموش اشاروں” نے ووٹر کو یہ پیغام دیا کہ اب ہواؤں کا رخ بدل چکا ہے۔ خرم دستگیر کی شکست محض ایک انتخابی ہار نہیں تھی، بلکہ یہ اس بدلتے ہوئے سیاسی نظم کا حصہ تھی جہاں پرانے نظریاتی چہروں کے بجائے نئے مہروں کو ترجیح دی جا رہی تھی۔
​اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خرم دستگیر خان کا مستقبل کیا ہے؟ کیا وہ اسی روایتی ڈگر پر چلتے رہیں گے یا اپنی سیاست میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے؟ سچی بات یہ ہے کہ اب انہیں روایتی سیاست کے محدود خول سے باہر نکلنا ہوگا۔ انہیں اپنے گرد موجود چند مخصوص چہروں کی پروموشن کے بجائے گوجرانوالہ کے عام، پڑھے لکھے اور باصلاحیت نوجوانوں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنانا ہوگا۔ سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر یونیورسٹیوں، بازاروں اور گلیوں میں لانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اب موروثی نسبت کے بجائے خالصتاً “عوامی خادم” کا کردار ہی کامیابی کی واحد ضمانت ہے۔ ایک لیڈر کی اصل طاقت اس کے گرد جمع چند خوشامدی نہیں بلکہ وہ نظریاتی ورکر ہوتا ہے جو دھوپ اور چھاؤں میں اس کے ساتھ کھڑا رہے۔
​خرم دستگیر کو اپنی نئی حکمتِ عملی میں مقامی اداروں، جیسے صحت، تعلیم، واسا، جی ڈی اے، میونسپل کارپوریشن، گیپکو اور ریونیو ڈیپارٹمنٹس میں پھیلی کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننا ہوگا۔ عوام تب ہی کسی رہنما پر اعتماد کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ اور ترقیاتی فنڈز شفاف طریقے سے ان کی فلاح پر خرچ ہو رہے ہیں۔ انہیں اپنی ہی حکومت میں مہنگائی اور بجلی کی قیمتوں پر دو ٹوک عوامی موقف اختیار کرنا ہوگا، چاہے اس کے لیے انہیں اپنی پارٹی کی قیادت سے ہی سخت سوال کیوں نہ کرنا پڑیں۔ حقیقی عوامی نمائندہ وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں اپنی نشست یا کرسی بچانے کے بجائے عوام کے مفاد کو مقدم رکھے۔ گوجرانوالہ کی مٹی ایسے جرات مند رہنماؤں کی امین رہی ہے جو حق بات کہنے سے دریغ نہیں کرتے۔
​آنے والا وقت خرم دستگیر خان کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر وہ جدید طرزِ سیاست، ڈیجیٹل میڈیا کے موثر استعمال، نوجوانوں کی عملی شمولیت اور شفافیت کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں، تو وہ نہ صرف گوجرانوالہ بلکہ قومی سیاست میں ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ سیاست میں ہار جیت عارضی ہوتی ہے، لیکن عوام کے دلوں میں مقام بنانا مستقل محنت کا متقاضی ہے۔ اگر وہ روایتی موروثی سیاست کے سحر میں گرفتار رہے، تو تاریخ انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جس نے وقت کی بدلتی پکار کو سننے میں دیر کر دی تھی۔ گوجرانوالہ کے عوام اب ایک ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو ان کے دکھ سکھ میں ان کے درمیان ہو، جو کرپشن سے پاک ہو اور جو شہر کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ ان نظریاتی ورکرز کی عزتِ نفس کا بھی محافظ ہو جنہوں نے اپنے وقت، محنت اور دولت کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔
​اس تحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ “نوبل کاز” کے پلیٹ فارم سے گوجرانوالہ کی سیاست کا وہ آئینہ دکھانا ہے جس میں اصلاح کی گنجائش موجود ہے۔ ہمارا مقصد شہر کے سیاسی شعور کو بیدار کرنا اور قیادت کو یہ باور کرانا ہے کہ اب موروثی وراثت نہیں، بلکہ عوامی خدمت ہی بقا کا واحد راستہ ہے۔ اب یہ خرم دستگیر پر منحصر ہے کہ وہ تاریخ کے صفحات میں ایک موروثی سیاستدان کے طور پر رقم ہونا چاہتے ہیں یا ایک جدید عوامی لیڈر کے طور پر ابھر کر گوجرانوالہ کو واقعی ایک سیاسی “آبنائے ہرمز” ثابت کرتے ہیں۔

​ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد

ادارہ جاتی ڈسکلیمر:

اس کالم میں پیش کیے گئے خیالات اور نظریات کالم نگار کے ذاتی ہیں، جن سے اردو پوائنٹ پریس کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ہماری ویب سائٹ کا مقصد مختلف آراء کو عوامی پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے تاکہ صحت مند سیاسی و سماجی بحث کو فروغ مل سکے۔ اس تحریر سے پیدا ہونے والے کسی بھی قانونی اثر کی ذمہ داری ادارہ پر عائد نہیں ہوگی۔


کالم نگار کا تعارف: محمد سجاد ڈار گوجرانوالہ کے معروف صحافی ہیں۔ آپ صحافیوں کے حقوق کی توانا آواز کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *