جاز اور دیگر نیٹ ورکس کا معاشی استحصال: صارفین کا تھرڈ پارٹی آڈٹ اور رقم واپسی کا مطالبہ
گوجرانوالہ ( ایم ایس ڈی )پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ اس وقت شدید بحران اور عوامی غم و غصے کی زد میں ہے
گوجرانوالہ ( ایم ایس ڈی )پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ اس وقت شدید بحران اور عوامی غم و غصے کی زد میں ہے، جہاں موبائل نیٹ ورک کمپنیاں صارفین کے لیے ایک مسلسل ذہنی اور معاشی عذاب بن چکی ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب حکومت کی جانب سے ملک میں 5G انٹرنیٹ کی لانچنگ اور لائسنس کے اجراء کے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں، زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مہنگے ترین انٹرنیٹ پیکجز اور کال ریٹس کے باوجود صارفین کو وہ بنیادی سروس بھی میسر نہیں جس کا وعدہ اشتہارات میں کیا جاتا ہے۔ بالخصوص ملک کے سب سے بڑے نیٹ ورک کا دعویٰ کرنے والی کمپنی ‘جاز’ (Jazz) کے کروڑوں صارفین ان دنوں شدید کرب کا شکار ہیں، جہاں نیٹ ورک سگنلز کی عدم دستیابی اور انٹرنیٹ کی سست رفتاری نے معمولات زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔یہ صورتحال محض تکنیکی خرابی تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک بڑے معاشی استحصال کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جاز، ٹیلی نار اور یوفون جیسی کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر عوام کو اربوں روپے کے لوڈ اور انٹرنیٹ بنڈلز تو فروخت کر رہی ہیں، لیکن سروس کے نام پر صرف مایوسی فراہم کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بھاری رقم خرچ کرنے کے باوجود ویب پیجز کا لوڈ نہ ہونا، دوران کال رابطے کا منقطع ہونا اور ڈاؤن لوڈنگ کی انتہائی کم رفتار نے آن لائن کاروبار، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں اور فری لانسرز کے کام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کمپنیاں اپنی صلاحیت سے زیادہ صارفین بنا چکی ہیں اور اب مطلوبہ سہولت فراہم کرنا ان کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔عوام کا غصہ اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک ہر جگہ ان کمپنیوں کے خلاف دہائی دی جا رہی ہے۔ صارفین نے حکومت پاکستان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جاز سمیت تمام بڑی ٹیلی کام کمپنیوں کا فوری طور پر ‘تھرڈ پارٹی آڈٹ’ کروایا جائے۔ اس مطالبے کے پیچھے یہ منطق کارفرما ہے کہ یہ کمپنیاں سروس فراہم کرنے کے بجائے “ڈیجیٹل دھوکے” کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں۔ صارفین کا موقف ہے کہ جب سروس ہی فراہم نہیں کی گئی تو پیکجز کی مد میں وصول کی گئی بھاری رقوم کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں رہتا، لہٰذا یہ رقم صارفین کو فوری طور پر واپس کی جانی چاہیے۔حیرت انگیز اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ حکومت ان کمپنیوں کے ذریعے عوام سے اربوں روپے ٹیکس تو باقاعدگی سے وصول کر رہی ہے، لیکن جب صارفین کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کی بات آتی ہے تو ریگولیٹری ادارے خاموش تماشائی بنے نظر آتے ہیں۔ پی ٹی اے (PTA) کی خاموشی نے ان کمپنیوں کو بے لگام کر دیا ہے، جو معیار پر سمجھوتہ کر کے صرف منافع خوری میں مصروف ہیں۔ عوام نے اب دو ٹوک موقف اختیار کر لیا ہے کہ اب صرف روایتی نوٹسز اور بیانات سے کام نہیں چلے گا، بلکہ اس لوٹ مار کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور ایک ایسا شفاف نظام وضع کیا جائے جہاں سروس متاثر ہونے کی صورت میں صارف کو خودکار طریقے سے ہرجانہ ادا کیا جائے۔ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا خواب تب تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک موبائل نیٹ ورک کمپنیاں اپنی نااہلی چھپانے کے لیے عوام کا معاشی استحصال کرتی رہیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت اس “ڈیجیٹل ڈکیتی” کا فوری نوٹس لے کر عوام کو ریلیف فراہم کرے اور انٹرنیٹ سروس کے معیار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق یقینی بنائے۔ چیک اٹس
ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress
