ایران کا اسرائیل پر ہائپرسونک میزائلوں نے دفاعی حصار توڑ دیا

مشرقِ وسطیٰ میں عظیم جنگ کا آغا

​امریکہ/تہران/تل ابیب (خصوصی رپورٹ: ملک توصیف احمد، اردو پوائنٹ پریس)مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی معرکہ شروع ہو گیا ہے۔ ایران نے اپنے اعلیٰ حکام کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے “وعدہ صادق 3” کے نام سے اسرائیل پر سینکڑوں ڈرونز اور جدید ترین بیلسٹک میزائلوں سے یلغار کر دی ہے۔ اس حملے کی خاص بات ‘فتح’ اور ‘خیبر شکن’ جیسے ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال ہے، جنہوں نے دنیا کے مہنگے ترین دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ اور ‘ایرو تھری’ کو ناکام بنا دیا ہے۔​اسرائیلی اخبار ‘ہاریٹز’ (Haaretz) اور ‘دی ٹائمز آف اسرائیل’ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ حملہ توقع سے کہیں زیادہ شدید تھا۔ گزشتہ رات ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پہلی بار حیفا، اشدود اور بئر السبع جیسے صنعتی و رہائشی مراکز کو براہِ راست نشانہ بنایا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایرانی میزائلوں نے تل ابیب کے قلب میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹرز اور (Nevatim) فضائی اڈے کو بری طرح متاثر کیا۔ چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، حملے کے نتیجے میں درجنوں فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ کئی F-35 طیاروں کے ہینگرز کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ حیفا کی بندرگاہ اور اشدود کے صنعتی زون میں لگنے والی آگ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا، جہاں اربوں ڈالرز کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اسرائیلی ہسپتالوں میں ‘کوڈ ریڈ’ نافذ کر کے خون کے عطیات کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔​امریکی سینٹ کام (CENTCOM) نے تصدیق کی ہے کہ ان کے بحری بیڑوں اور اردن میں موجود دفاعی نظام نے کئی ایرانی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کیا۔ تاہم، پینٹاگون کے ذرائع نے اب اعتراف کیا ہے کہ خلیج فارس میں موجود ایک امریکی جنگی جہاز اور اردن کے قریب ایک لاجسٹک بیس کو نقصان پہنچا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امریکی حکام اس نقصان کو ایرانی حملے کے بجائے “تکنیکی اور فنی خرابی” قرار دے رہے ہیں، جبکہ دفاعی مبصرین اسے ایرانی ڈرونز کی الیکٹرانک وارفیئر کی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔​​اس جنگ کی آگ نے پڑوسی عرب ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اردن اور سعودی عرب کی فضائی حدود میں میزائلوں کے ملبے گرنے سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ دوسری جانب، امریکی و اسرائیلی طیاروں کی جوابی بمباری میں مغربی ایران کے کچھ ریڈار سٹیشنز اور میزائل لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایران نے اپنے 4 فوجی اہلکاروں کی شہادت اور فضائی دفاعی نظام کے محدود نقصان کی تصدیق کی ہے۔​ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا دعویٰ ہے کہ ان کے 90 فیصد میزائل اہداف پر لگے ہیں۔ ایرانی کمانڈرز نے صاف کہہ دیا ہے کہ کسی بھی امریکی مداخلت کی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی اڈے آگ کا ڈھیر بن جائیں گے۔ اس وقت پورے اسرائیل میں سائرن گونج رہے ہیں اور لاکھوں آبادکار زیرِ زمین بنکروں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا ایک بڑے معاشی اور فوجی بحران کی لپیٹ میں آ چکی ہے۔

فاتحِ خیبر: فزکس کے قوانین سے ماورا شجاعت

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *