فاتحِ خیبر: فزکس کے قوانین سے ماورا شجاعت

فاتحِ خیبر حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت اور فزکس کے قوانین پر ملک توصیف احمد کی خصوصی تحریر کا فیچرڈ امیج، جس میں ذوالفقار اور قلعہ خیبر کا علامتی منظر دکھایا گیا ہے۔

ایک اداس سحر اور انسانیت کا محافظ

19 رمضان کو امیرالمومنین سیدنا علی المرتضی شیر خدا پر عین وقت نماز قاتلانہ حملہ کیا گیا اور 21 رمضان المبارک کی یہ اداس گھڑی شروع ہو چکی ہے۔ جب پوری دنیا جنگ کی لپیٹ میں اور ہم اس ہستی کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جو راتوں کو جاگ کر انسانیت کی حفاظت کرتی تھی۔ آج مولا علیؑ کی شہادت کی وہ رات ہے جس نے آسمان کو بھی خون کے آنسو رلا دیا۔​”لوگ مولا علیؑ کی بہادری کی بات کرتے ہیں،

​عشق کی انتہا: بسترِ رسول ﷺ پر پہرا

فاتحِ خیبر: فزکس کے قوانین سے ماورا شجاعت

میں اس عشق کی بات کرتا ہوں جو ہجرت کی رات نظر آیا۔ جب دشمنوں نے نبی ﷺ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا، تب علیؑ نبی کے بستر پر بے خوف و خطر سو گئے۔”یہ موت کے بستر پر سونا نہیں تھا، یہ پوری دنیا کو بتانا تھا کہ جہاں محمد ﷺ کا سایہ ہو، وہاں علیؑ کو موت کا ڈر نہیں لگتا۔ یہیں سے دشمنوں کے دلوں میں وہ بغض پیدا ہوا کہ یہ وہ نوجوان ہے جس نے ہماری تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا۔

بابِ خیبر: مادی قوانین کی شکست

قارئین! آج کی دنیا اہرامِ مصر کو دیکھ کر حیران ہے کہ اتنے وزنی پتھر کیسے اٹھائے گئے؟ لیکن میں آپ کو 1400 سال پہلے کے اس معجزے کی طرف لے جاتا ہوں۔اکثر لوگ کہتے ہیں کہ علیؑ نے قلعے کا دروازہ اکھاڑ دیا۔ لیکن سائنسی اور جنگی نقطہ نظر سے دیکھیں تو وہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ اسے 40 سے 70 طاقتور مرد مل کر ہلاتے تھے۔ مولا علیؑ نے اسے نہ صرف اکھاڑا بلکہ اسے ڈھال (Shield) کے طور پر استعمال کیا۔ جنگی ماہرین کہتے ہیں کہ اتنی وزنی چیز کو توازن کے ساتھ پکڑ کر لڑنا ناممکن ہے، مگر علیؑ نے اسے اس طرح تھاما کہ وہ ان کی حرکت میں رکاوٹ نہیں بلکہ سہولت بن گیا۔ یہ شجاعت کے ساتھ ساتھ اللہ کی دی ہوئی وہ غیبی طاقت تھی جو مادیت کے قوانین کو توڑ دیتی ہے۔مرحب اس وقت کا “سپر پاور” سمجھا جاتا تھا۔ اس نے دوہری زرہ پہنی ہوئی تھی اور سر پر فولادی خود (Helmet) کے اوپر پتھر کی سل باندھی ہوئی تھی تاکہ کوئی تلوار اسے کاٹ نہ سکے۔​مولا علیؑ نے جب “ذوالفقار” چلائی، تو وہ تلوار مرحب کے پتھر کو چیرتی، اس کے فولادی خود کو کاٹتی، اس کے سر اور دانتوں سے ہوتی ہوئی اس کے سینے تک اتر گئی۔ تاریخ نویس لکھتے ہیں کہ ضرب اتنی خاموش اور تیز تھی کہ کچھ لمحوں کے لیے مرحب کو لگا ہی نہیں کہ وہ کٹ چکا ہے، پھر جب وہ گرا تو زمین دہل گئی۔ یہ محض طاقت نہیں، “کامل نشانے” کی انتہا تھی۔خیبر کے میدان میں جب سب بڑے بڑے سورما پیچھے ہٹ گئے تھے، تب اللہ کے حکم سے جبریلؑ نے وہ جملہ بلند کیا جو آج بھی آسمانوں پر گونجتا ہے: “لا فتیٰ الا علی، لا سیف الا ذوالفقار” (علی جیسا کوئی جوان نہیں اور ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں)۔​شجاعت وہ نہیں جو انسان خود کہے، شجاعت وہ ہے جس کی گواہی عرش والا دے۔جنگِ خیبر کے دوران ایک لمحہ ایسا آیا جب ایک دشمن کا لباس سرک گیا تو مولا علیؑ نے اپنی نظریں پھیر لیں اور اسے چھوڑ دیا۔​دنیا کا کوئی بھی فاتح اپنے دشمن کو ننگا دیکھ کر رحم نہیں کرتا بلکہ فائدہ اٹھاتا ہے، مگر علیؑ کی شجاعت “نفس” پر قابو پانے کا نام تھی۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ علیؑ اللہ کے لیے لڑتا ہے، اپنی انا یا دشمنی کے لیے نہیں۔خیبر کا قلعہ ‘قموص’ پہاڑ کی چوٹی پر تھا۔ اس کا دروازہ لوہے اور لکڑی کا ایسا مرکب تھا جسے کھولنے کے لیے درجنوں مرد چاہیے تھے۔”جب مولا علیؑ نے مرحب پر وار کیا، تو وہ وار پتھر کی سل کو چیر گیا۔ آج کی میٹالرجی حیران ہے کہ وہ کیسا فولاد ہوگا اور کیسی طاقت ہوگی جو پتھر اور لوہے کو کاغذ کی طرح کاٹ دے؟ یہ وہی معجزہ ہے جیسے اہرام کے پتھروں کی تراش خراش، جو انسانی بس سے باہر معلوم ہوتی ہے۔”لوگ کہتے ہیں علیؑ نے دروازہ اکھاڑا، میں کہتا ہوں علیؑ نے فزکس کے قوانین کو اکھاڑ پھینکا۔ اس وزنی کواڑ کو ڈھال بنا کر لڑنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی پہاڑ کی چوٹی کو ہاتھ میں پکڑ کر تلوار چلائے۔ یہ وہ شجاعت ہے جس کا ادراک مادی عقل کر ہی نہیں سکتی۔

​غدیرِ خم: ولایت اور قیادت کا اعلان

غزوہ تبوک کے موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا: “اے علی! تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کی موسیٰؑ سے تھی”۔ یعنی آپ ﷺ کے بعد اگر نبوت ختم نہ ہو چکی ہوتی تو وہ مقام علیؑ کا ہوتا۔​جب نبی ﷺ نے سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا، تو اپنے لیے علیؑ کو چنا اور فرمایا: “تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو”۔ علیؑ صرف صحابی نہیں، نفسِ رسول ﷺ ہیں۔ اب رخ کرتے ہیں تاریخ کے اس عظیم موڑ کی طرف جسے ‘غدیرِ خم’ کہا جاتا ہے۔ جب حجۃ الوداع سے واپسی پر تپتی دھوپ میں نبی کریم ﷺ نے تمام قافلوں کو روکا اور منبرِ رسول ﷺ پر کھڑے ہو کر مولا علیؑ کا ہاتھ بلند کیا اور فرمایا “من کنتُ مولاہ فھٰذا علیٌ مولاہ’ (جس کا میں مولا ہوں، اس کا یہ علیؑ مولا ہے)۔​یہاں ایک بہت بڑی علمی بحث چھیڑی جاتی ہے کہ ‘مولا’ سے مراد صرف ‘دوست’ ہے۔ میں اپنے ناظرین سے ایک سادہ سا سوال پوچھتا ہوں: کیا تپتی دوپہر میں، ہزاروں کے مجمع کو روک کر، اونٹوں کے کجاووں کا منبر بنا کر، اللہ کے نبی ﷺ صرف یہ بتانے کے لیے رکے تھے کہ ‘علیؑ میرے دوست ہیں’؟ ہم سب جانتے ہیں کہ علیؑ نبی ﷺ کے دوست بھی تھے، بھائی بھی تھے اور داماد بھی۔ لیکن اس مقام پر ‘مولا’ کا مطلب دوستی نہیں، بلکہ ‘ولایت اور قیادت’ ہے۔ذرا غور کریں! ہم نبی ﷺ کے صرف ‘دوست’ نہیں ہیں، ہم ان کے امتی ہیں۔ وہ ہمارے قائد ہیں، ہم ان کے مقتدی ہیں۔ وہ آمر ہیں، ہم مامور ہیں۔​پس جب نبی ﷺ نے فرمایا کہ ‘جس کا میں مولا ہوں’، تو اس کا مطلب تھا کہ جس جس پر میرا حکم چلتا ہے، جس جس کے جان و مال کا میں مالک و مختار ہوں، آج سے علیؑ بھی اسی طرح تمہارا قائد اور مولا ہے۔​یہ وہ مقام ہے جہاں علیؑ کی شجاعت، ان کا علم اور ان کی نیابت مل کر ایک ایسی ‘لاح’ (راستہ) بنتی ہے جو ہمیں سیدھا مصطفیٰ ﷺ کے قدموں میں لے جاتی ہے۔

اے علی! تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو

“قارئین کرام ایک اور ایسا منظر ہے جو تاریخِ انسانی میں کبھی دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔ جب ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان ‘بھائی چارہ’ قائم کیا، تو آپ ﷺ نے ایک ایک صحابی کا ہاتھ دوسرے صحابی کے ہاتھ میں دیا اور انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔​سب کے جوڑے بن گئے، لیکن علیؑ اکیلے رہ گئے۔ تاریخ لکھتی ہے کہ علیؑ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور عرض کی: ‘یا رسول اللہ ﷺ! آپ نے سب کو بھائی بنا دیا، میرا بھائی کون ہے؟’​تب کائنات کے سب سے عظیم بھائی، رحمت اللعالمین ﷺ نے علیؑ کا ہاتھ تھاما اور وہ جملہ فرمایا جو کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔اے علی! تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔’

شہر تک پہنچنا ہے تو دروازے کو تلاش کرنا پڑے گا۔جس نے علیؑ کو پا لیا، اس نے گویا دروازہ پا لیا

ذرا سوچیے! نبی ﷺ نے کسی اور کو اپنا بھائی کیوں نہیں بنایا؟ کیونکہ علیؑ صرف بھائی نہیں تھے، بلکہ قرآن کی رو سے (مباہلہ کے واقعے میں) وہ ‘نفسِ رسول’ تھے۔ جب نبی ﷺ نے سب کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا تو اپنے لیے اسے چنا جو ان کے علم، ان کی شجاعت اور ان کے اخلاق کا وارث تھا۔​یہ وہ رشتہ ہے جو خون کے رشتے سے بھی اوپر ہے، یہ نور کا رشتہ ہے۔ اسی لیے جب آپ اس دروازے (علیؑ) پر دستک دیتے ہیں، تو آپ کو مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو آتی ہے، کیونکہ بھائی اور نفس کبھی جدا نہیں ہوتے۔اب اس سے بھی گہری بات کی طرف آتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے’۔”اس جملے کی گہرائی دیکھیں۔ شہر کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو، آپ اس میں دیواریں پھلانگ کر داخل نہیں ہو سکتے۔ شہر تک پہنچنا ہے تو دروازے کو تلاش کرنا پڑے گا۔جس نے علیؑ کو پا لیا، اس نے گویا دروازہ پا لیا۔ اور جب آپ اس دروازے سے گزر جاتے ہیں، تو پھر آپ وہاں پہنچ جاتے ہیں جہاں مصطفیٰ ﷺ کی رحمتوں کے سائے ہیں۔ علیؑ کو پانا گویا مصطفیٰ ﷺ کو پا لینا ہے، کیونکہ شہر اور دروازہ جدا نہیں ہوتے، ایک دوسرے کی پہچان ہوتے ہیں۔

​بزدل دشمن اور سجدے میں وار-​ناقابلِ تسخیر شجاعت اور ابدی زندگی

اب ذرا اس پہلو پر غور کریں کہ دشمنِ اسلام نے ہمیشہ بزدلی کا راستہ کیوں چنا؟ خیبر کے میدان میں لشکروں کے لشکر تھے، بڑے بڑے نامور جنگجو تھے، لیکن کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ ‘فاتحِ خیبر و خندق’ کا سامنا کر سکے۔ سب جانتے تھے کہ جس کے ایک ہاتھ میں خیبر کا دروازہ بطورِ شیلڈ ہو اور دوسرے میں ذوالفقار، اس کا سامنا کرنا اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنا ہے۔​ جب دشمن علیؑ اور نبیِ پاک ﷺ سے میدانِ جنگ میں بدلہ نہ لے سکے، جب وہ ان کی حقانیت کو شکست نہ دے سکے، تو انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا جو صرف بزدلوں کا شیوہ ہے۔ انہوں نے نسل در نسل چھپ کر وار کرنے کی روایت ڈالی۔​ملجم کا لعنتی وار ہو یا بعد میں کربلا کے میدان میں رسولؐ کے پھولوں کو پیاسا ذبح کرنا— یزید نے ابن زیاد کو ٹاسک دے کر نواسہ رسول کو شہید کروایا اور موقف منافقانہ اپنایا اور خود کو اس واقع سے بری الزمہ قرار دیا ۔ یہ سب اس بزدلی کا اعتراف تھا کہ وہ علیؑ اور اولادِ علیؑ کا سامنا کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ اسی لیے ابنِ ملجم نے وہ وقت چنا جب کائنات کا سب سے بڑا جرنیل اپنے رب کے حضور سجدے میں سر جھکائے دنیا سے بے خبر ہو چکا تھا۔ دشمن جانتا تھا کہ علیؑ کو صرف اسی وقت شہید کیا جا سکتا ہے جب وہ خود کو اللہ کے سپرد کر دے، ورنہ بیداری کی حالت میں تو موت بھی علیؑ کے قریب آتے ڈرتی تھی۔علیؑ تاحیات ناقابلِ تسخیر رہے اور شہادت پا کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئے۔ آج بھی ظالم ان کے نام سے کانپتے ہیں۔​ “اللہ مسلمانوں کو اولادِ مولا علیؑ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔”

مزید پڑھیں

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *