مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان: ہسپتالوں میں بہتری کے باوجود بجلی و گیس بم

ملک بھر میں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی، بے روزگاری اور انتقامی کارروائیوں کے خوف نے عام آدمی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اگرچہ پنجاب حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کی حالت زار میں نمایاں بہتری اور ‘بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام’ جیسی امداد غریب اور بیمار شہریوں کے لیے ایک بڑا سہارا بن رہی ہے، تاہم بجلی کے بلوں، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافے نے محنت کش طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ شہری اس معاشی بدحالی اور حکومتی پالیسیوں پر صدائے احتجاج بلند کرنے سے بھی اس لیے گریزاں ہیں کہ انہیں جھوٹے مقدمات اور ریاستی عتاب کا ڈر ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں کی جانب سے جہاں صحت کی سہولیات میں بہتری کے حکومتی اقدام کو سراہا جا رہا ہے، وہیں معاشی محاذ پر حکومت کی رٹ چیلنج ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ فیکٹریوں، کارخانوں، سپر اسٹورز اور منڈیوں میں مزدوروں کی تنخواہوں کے حوالے سے کیے گئے حکومتی اعلانات محض کاغذی کارروائی تک محدود ہیں۔ پنجاب حکومت کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد کروانے میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے جس کے باعث سرمایہ دارانہ استحصال عروج پر ہے۔روزمرہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے سبب کرایہ دار، مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ فاقوں پر مجبور ہو چکا ہے۔ سفید پوش طبقے کی قوتِ خرید دم توڑ چکی ہے اور عام آدمی اپنے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے اب صرف آسمان کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے۔ماہرین تعلیم اور سماجی تجزیہ کاروں نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کا یہ طوفان پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ دو وقت کی روٹی کے حصول کی اس جدوجہد کے براہ راست اور انتہائی برے اثرات ملک کے لٹریسی ریٹ (شرح خواندگی) پر بھی مرتب ہوں گے، کیونکہ فاقہ کشی کا شکار والدین کے لیے اب بچوں کی تعلیم کے بجائے ان کا پیٹ پالنا سب سے بڑا اور کٹھن مسئلہ بن چکا ہے۔
