پنجاب بھر میں جنگلی و آبی پرندوں کے شکار پر مکمل پابندی کا فیصلہ، نوٹیفکیشن یکم اپریل کو جاری ہوگا

گوجرانوالہ (ڈویژنل بیورو رپورٹ)
حکومتِ پنجاب نے صوبہ بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے پیشِ نظر جنگلی و آبی پرندوں اور جانوروں کے شکار پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پابندی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن یکم اپریل کو جاری کیا جائے گا، جس کے بعد 31 اکتوبر تک کسی بھی قسم کے شکار کی اجازت نہیں ہوگی۔تفصیلات کے مطابق، موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی روس، چین اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں سے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے پردیسی پرندے پاکستان کے دریاؤں، ندی نالوں، پہاڑی سلسلوں اور کھیتوں کھلیانوں کا رخ کرتے ہیں۔ ان پرندوں کی آمد سے پنجاب کے آبی ذخائر اور مچھلی فارموں کی رونقیں بحال ہو جاتی ہیں۔ حکومت نے اکتوبر میں شوٹنگ لائسنس یافتہ شکاریوں کو ہفتہ اور اتوار کے روز مشروط شکار کی اجازت دی تھی، تاہم اب ان پرندوں کی واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔موسمِ گرما کی دستک کے ساتھ ہی جہاں ندی نالوں اور کھیتوں سے ان پرندوں کی سریلی آوازیں کم ہونا شروع ہو گئی ہیں، وہیں مقامی پرندوں کی افزائشِ نسل (Breeding Season) کا وقت بھی قریب ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، اس دوران شکار پر پابندی لگانا پرندوں کی نسل کو بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ وائلڈ لائف نے 31 اکتوبر تک شکار پر قدغن لگانے کی سفارش کی ہے۔یکم اپریل سے نافذ العمل ہونے والی اس پابندی کے بعد غیر قانونی شکار کرنے والوں کے خلاف وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیموں کو صوبہ بھر کے جنگلاتی علاقوں اور آبی گزرگاہوں کی سخت نگرانی کی ہدایت کر دی گئی ہے تاکہ نایاب پرندوں اور جانوروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

