ڈیرہ غازی خان میں آن لائن پٹوار سسٹم عوامی عذاب بن گیا، موضع گدائی اور قصبہ ڈیرہ کے مکینوں کا دہائی

ڈیرہ غازی خان: آن لائن پٹوار سسٹم سے عوام خوار، دستی نظام کی بحالی کا مطالبہ | اردو پوائنٹ پریس

ڈیرہ غازی خان: آن لائن پٹوار سسٹم سے عوام خوار، دستی نظام کی بحالی کا مطالبہ | اردو پوائنٹ پریس

​ڈیرہ غازی خان (چوہدری احمد سے): تحصیل ڈیرہ غازی خان کے گنجان آباد علاقوں، موضع گدائی شمالی اور موضع قصبہ ڈیرہ میں جدید آن لائن پٹوار سسٹم کی ناکامی نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ پٹواریوں کی عدم دلچسپی اور تکنیکی مہارت کی کمی کے باعث عوامی معاملات “کچھوے کی چال” کا شکار ہو گئے ہیں، جس پر اہلیانِ علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔مقامی معززین مناظر نصاریٰ ایڈووکیٹ، عبدالرحمن، مظہر عباس اور محمد جمیل نے ایک تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت نے پٹوار سسٹم تو آن لائن کر دیا ہے لیکن متعلقہ عملہ اس جدید نظام سے مکمل ناواقف ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے پرائیویٹ افراد کو کام پر رکھا گیا ہے جن کی سنگین غلطیوں کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سائلین کا کہنا ہے کہ معمولی کاموں کے لیے بھی ہفتوں دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔شہریوں نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ تحصیل ڈیرہ غازی خان میں کوئی مستقل سب رجسٹرار تعینات نہیں ہے۔ تحصیلدار صاحب کے پاس اضافی چارج ہونے کی وجہ سے وہ اپنی انتظامی مصروفیات کے باعث رجسٹری اور دیگر دفتری امور کو وقت نہیں دے پاتے، جس سے سائلین شدید ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔اہلیانِ علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ​موضع گدائی شمالی اور قصبہ ڈیرہ کو تجرباتی آن لائن سسٹم سے نکال کر دوبارہ دستی (Manual) نظام پر منتقل کیا جائے۔​تحصیل ڈیرہ غازی خان میں فی الفور ایک مستقل سب رجسٹرار تعینات کیا جائے تاکہ رجسٹری کے معاملات میں حائل رکاوٹیں دور ہو سکیں۔​شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مریم نواز شریف کی حکومت ان کے جائز مسائل کو حل کر کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کرے گی۔

دنیا بارود کے ڈھیر پر: ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستان کی سفارتکاری کا امتحان | تحریر: افتخار بٹ


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *