گوجرانوالہ یونیورسٹی کا قیام: 4 ارب سے زائد کا منصوبہ، کمشنر نوید حیدر شیرازی کی بریفنگ

گوجرانوالہ(ڈویژنل بیورو رپورٹ)کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن سید نوید حیدر شیرازی نے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب کی تعلیمی ترقی کے ویژن کے تحت “Establishment of University of Gujranwala” ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل منصوبہ ہے، جسے سال 2025-26 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP No.65) میں نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ 15 ستمبر 2023 کو 4746.774 ملین روپے کی خطیر لاگت سے اس منصوبے کی باقاعدہ انتظامی منظوری دی گئی، جو اس امر کی عکاس ہے کہ خطہ گوجرانوالہ میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب تک 1585.636 ملین روپے مختص کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 1385.636 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف منصوبے کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے بلکہ حکومتی عزم اور وسائل کے مؤثر استعمال کی بھی غمازی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ مختلف گروپس میں تقسیم کے گروپ نمبر 1کے تحت ایڈمن بلاک کی رافٹ فاؤنڈیشن پر اسٹیل فیبریکیشن کا کام جاری ہے جبکہ سڑکوں کی تعمیر بھی تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ گروپ نمبر 02 میں تین عدد اکیڈمک بلاکس شامل ہیں، جہاں تمام بلاکس کی گراؤنڈ فلور کی چھت مکمل ہو چکی ہے، ایک بلاک کی پہلی منزل کی چھت ڈال دی گئی ہے جبکہ باقی دو بلاکس پر کام جاری ہے۔
اسی طرح گروپ نمبر 03 کے تحت طلبہ و طالبات کے ہاسٹلز کی بنیادیں مکمل کر لی گئی ہیں اور گراؤنڈ فلور کے ستونوں کی تعمیر جاری ہے۔ مزید برآں، گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے چار رہائشی یونٹس کا گرے اسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے جبکہ گریڈ 1 تا 10 کے لیے دو رہائش گاہیں بھی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔ پانی کی فراہمی کے لیے اوور ہیڈ ریزروائر (OHR) پر بھی کام جاری ہے، جو مستقبل میں اس تعلیمی ادارے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرے گا۔مجموعی طور پر یہ منصوبہ نہ صرف گوجرانوالہ میں جدید تعلیمی سہولیات کی بنیاد رکھے گا بلکہ خطے کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کر کے سماجی و معاشی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ یہ جامعہ مستقبل میں علم و تحقیق کا ایسا مرکز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں سے نکلنے والے طلبہ ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

