گوجرانوالہ: تھانہ کلچر اور ٹاؤٹ ازم کا خاتمہ ہو چکا، ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ریاض سنگھا کا خصوصی انٹرویو

جرائم پیشہ افراد کےخلاف سخت کاروائیاں عمل میں لائی گئی۔جس نے منشیات فروخت کرنی ہے وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے

گوجرانوالہ: تھانہ کلچر اور ٹاؤٹ ازم کا خاتمہ ہو چکا، ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ریاض سنگھا کا خصوصی انٹرویو

گوجرانوالہ(ڈویژنل بیورو رپورٹ)تھانہ کلچر اور ٹاؤٹ ازم مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔جرائم پیشہ افراد کےخلاف سخت کاروائیاں عمل میں لائی گئی۔جس نے منشیات فروخت کرنی ہے وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔پولیس اور عوام کے درمیان حائل دوریاں ختم ہو رہی ہیں۔عوام بے خوف ہوکر تھانوں میں مسائل کے حل کےلئے آنے لگے۔پولیس میں پڑھے لکھے افراد آنے سے تفتیشی نظام میں بہتری آئی ہے۔سی پی او گوجرانوالہ نے منشیات فروش اور معاونت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائیاں کرکے عوام کے دل جیت لئے۔ان خیالات کا اظہار ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ریاض سنگھا نے انٹرویوں میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ماسٹر اکنامکس پاس کی۔خواہش تھی کہ لوگوں میں انصاف فراہم کرنے میں رول ادا کرو۔اس لئے محکمہ پولیس میں بطور سب انسپکٹر راولپنڈی میں بھرتی ہوا۔گوجرانوالہ کے تھانہ نوشہرہ ورکاں میں بھی تعینات رہا۔پروموٹ ہوکر ساہیوال میں بطور ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز کیا گیا اور وہاں سے گوجرانوالہ ٹرانسفارمر کر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس پر تنقید وہی لوگ کرتے ہیں جنکا پولیس کیساتھ برائے راست تعلق نہیں ہوتا۔ہاں اگر پولیس کے منفی کردار پر تنقید کی جائے اس کا بلکل برا نہیں محسوس کرتا۔غلطی ہر بندے سے ہوجاتی ہے۔اگر تنقید برائے اصلاح ہو تو میں سمجھتا ہوں یہ محبت کا پیغام ہو گا۔ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ریاض سنگھا کا کہنا تھا کہ تھانوں میں کرپشن زد عام تھی۔لیکن جب سے پولیس تھانوں میں گریجویٹ اور ایم اے پاس افراد کی بھرتی ہوئی تو کرپشن کی باتیں بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔کیونکہ نئی بھرتی ہونے والے نوجوان پڑھے لکھے کیساتھ ساتھ اچھے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہے ان کا ویزن بھی یہی ہے سائل کیساتھ زیادتی نہ ہو۔دوسری طرف سی پی او گوجرانوالہ سردار غیاث الدین گل خان نے پولیس تھانوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لے رکھی یے۔ہر چھوٹا موٹا کیس ضلع بھر کے خود ہی سنتے ہیں۔جس سے سی پی او گوجرانوالہ نے چارج لیا ہے میں قسم کھا کر کہ سکتا ہوں منشیات فروش گوجرانوالہ چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں اور جن منشیات فروشوں کو یقین تھا کہ ان کے خلاف کاروائیاں نہیں ہوگی۔ان کی حالت سب کے سامنے ہیں۔سی پی او گوجرانوالہ نے کہا تھا کہ جس نے منشیات فروخت کرنی ہے وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔جس طرح پولیس مقابلوں میں ریکارڈ یافتہ منشیات فروش اور دوران واردات شہریوں کی جانوں کیساتھ کھیلنے والے اپنے انجام کو خود ہی پہنچ چکے ہیں۔شہریوں نے سٹی پولیس کو اس حوالے سے خراج تحسین پیش کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی میں ملوث پولیس افسران یا معاونت کرنے والے اہلکاروں کو نوکریوں سے نہ صرف برخاست کیا بلکہ ان کے خلاف منشیات کے بھاری مقدمات بنا کر جیلوں میں پھینکا گیا۔بلکہ ایسا کرنے سے دوسرے پولیس افسران اور اہلکاروں کےلئے ایک واضح پیغام دے دیا گیا۔شہریوں کو بھی چاہیئے اس حوالے سے پولیس کو فوری آگاہ کریں تاکہ معاشرے میں ایسے ناسوروں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ایک سوال میں انہوں نے بتایا کہ سی پی او گوجرانوالہ کی انتھک محنت کی وجہ سے جرائم اور مجرمان کا خاتمہ ممکن ہوتا جارہا ہےاور تھانہ کلچر بھی ختم ہو چکا ہے۔سابق اور موجودہ سی پی او گوجرانوالہ نے ٹاؤٹ ازم کو جڑ سے ختم کر دیا ہے اور ایسے گندے افراد کےخلاف مقدمات بھی درج کرکے جیل بھیجا گیا۔ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ریاض سنگھا کا کہنا تھا کہ پڑھے لکھے پولیس افسران و اہلکاران کے آنے سے اب پولیس خود کو حاکم نہیں سمجھتی بلکہ اس حوالے سے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے بھی کہا ہے کہ تھانوں میں آنے والے سائلین کو سر کرکے مخاطب کیا جائے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب پولیس تھانوں میں تشدد کی باتیں صرف کہانیوں تک محدود یو کر رہ گئی ہے۔اس سے پہلے پولیس تفتیش میں سیاسی مداخلت بہت تھی اور شارٹ راستہ اختیار کیا جاتا ہے لیکن موجود حکومت کے واضح احکامات پر کوئی بھی رکن قومی و صوبائی اسمبلی پولیس کاروائیوں میں مداخلت نہیں کرتا۔تبھی تھانہ کلچر ختم ہوا۔ٹاؤٹ ازم ختم ہوا۔منشیات۔غنڈہ گردی کے واقعات ختم ہوئے۔شہریوں کو انصاف مل رہا ہے۔پولیس اور عوام میں حائل دوریاں بھی بڑی تیزی کیساتھ ختم ہو رہی ہیں۔اس لئے ہر وہ شخص جو متاثر ہے انصاف کےلئے بے خوف تھانہ میں آرہا ہے۔ڈی ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا تھا کہ کرائم کی ریشوں زیرو آ رہی ہیں۔عوام مکمل طور پر پولیس افسران و اہلکاران کیساتھ تعاون کررہی ہیں۔ٹریفک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وائلیشن کرنے والے پولیس افسران و اہلکاران کے خلاف بھی کاروائیاں عمل میں لائی گئی۔ان کا کہا تھا کہ ٹریفک کی وائلیشن کرنے پر ان کو بھی پانچ ہزار روپے کا چالان بھیجا گیا۔شہریوں کو بھی چاہیے دوران ڈرائیونگ وائلیشن کا خاص خیال رکھے۔پولیس افسران و اہلکاران آپ کی بہتری کےلئے سڑکوں پر کھڑے ہیں۔غلط ڈرائیونگ آپ کی جان کیساتھ ساتھ دوسرے کی بھی جان کا خطرہ بن سکتی ہے _

خدارا ہمیں پاکستان سے بچائیں، طالبان حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *