شہباز شریف اور امن کا مشن: نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کی تجویز – عشرت الماس چوہدری

شہباز شریف اور امن کا مشن: نوبل امن انعام کے لیے نامزدگی کی تجویز - عشرت الماس چوہدری

امن کا عالمی نشان: شہباز شریف اور انسانیت کی بقا کا مشن

تحریر: عشرت الماس چوہدری 923034519787+

تاریخ کے صفحات ہمیشہ ان مدبر رہنماؤں کے ذکر سے منور رہتے ہیں جنہوں نے کٹھن حالات میں نہ صرف اپنے ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکالا بلکہ عالمی افق پر بھی امن و آشتی کے دیپ جلائے۔ آج جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، مشرقِ وسطیٰ آگ کے شعلوں کی زد میں ہے اور معاشی عدم استحکام نے بڑے بڑے ممالک کی بنیادیں ہلا دی ہیں، ایسے میں پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ایک “عالمی نجات دہندہ” بن کر ابھرے ہیں۔
حالیہ دنوں میں گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹ (ورکرز) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی نشست میں تنظیم کے صدر عشرت الماس چوہدری نے وزیراعظم شہباز شریف کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کی جو تجویز پیش کی، وہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ان ٹھوس حقائق کا اعتراف ہے جنہیں آج عالمی ادارے بھی تسلیم کر رہے ہیں۔ گوجرانوالہ پریس کلب کے اس پلیٹ فارم سے اٹھنے والی یہ آواز دراصل اس سچائی کی عکاسی کرتی ہے کہ جو معجزہ شہباز شریف نے کر دکھایا، وہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔
تباہی کے سائے اور شہباز شریف کی بصیرت
شہباز شریف نے جب اقتدار سنبھالا تو پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی روایتی “شہباز اسپیڈ” کو صرف تعمیراتی منصوبوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے “گلوبل ڈپلومیسی” کا رنگ دے دیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک ایٹمی قوت کا سربراہ اگر مخلص ہو تو وہ دنیا کو تباہی سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کی سفارت کاری کا سب سے درخشاں پہلو متوازن خارجہ پالیسی ہے۔ انہوں نے ایک طرف چین کے ساتھ “سی پیک” کو نئی زندگی دی، تو دوسری طرف امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں جمی برف پگھلائی۔ ان کا یہ وژن کہ “پاکستان سب کا دوست ہے، کسی کا دشمن نہیں”، آج پاکستان کے لیے عالمی دروازے کھول رہا ہے۔
غزہ اور اقوام متحدہ: جرات مندانہ موقف
حالیہ برسوں میں جب غزہ میں انسانیت سسک رہی تھی، شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وہ تاریخی خطاب کیا جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے بلا خوف و خطر فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کی اس جرات نے انہیں عالمِ اسلام کا ایک قد آور رہنما بنا دیا، جس کا اعتراف ترکیہ سے لے کر ایران تک ہر جگہ کیا گیا۔
اقتصادی فتوحات اور علاقائی استحکام
شہباز شریف کی بڑی کامیابی برادر اسلامی ممالک کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ سعودی عرب کے حالیہ تاریخی دوروں اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی ذاتی رفاقت کے نتیجے میں پاکستان میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پائے۔ اسی طرح قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاشی شراکت داری نے یہ ثابت کر دیا کہ دنیا شہباز شریف کی دیانت پر بھروسہ کرتی ہے۔
پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کی کامیاب میزبانی شہباز شریف کی سفارتی فتح کا تاج ہے۔ اس اجلاس نے ثابت کر دیا کہ پاکستان اب عالمی سیاست کا محور بن چکا ہے اور شہباز شریف اس کے اصل معمار ہیں۔
عشرت الماس چوہدری کا خطاب: ایک سچی پکار
گوجرانوالہ کی صحافتی برادری ہمیشہ سے حق کی علمبردار رہی ہے۔ عشرت الماس چوہدری نے اپنے خطاب میں بالکل درست نشاندہی کی کہ شہباز شریف نے نہ صرف پاکستان کو معاشی ڈیفالٹ سے بچایا بلکہ دنیا کو ایک ایسی بڑی تباہی سے بھی بچایا جو علاقائی جنگوں کی صورت میں پوری انسانیت کو نگل سکتی تھی۔ انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران جس طرح “کلائمٹ جسٹس” کا مقدمہ عالمی سطح پر لڑا، وہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کا شاہکار ہے۔
نوبل انعام کی حقانیت
نوبل امن انعام کا مقصد ان شخصیات کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جنہوں نے جنگوں کو روکنے اور امن کے لیے کام کیا ہو۔ شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں ایٹمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھ کر خود کو اس اعزاز کا سب سے موزوں امیدوار ثابت کیا ہے۔ عشرت الماس چوہدری کی تجویز اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان کا دانشور اور صحافی طبقہ وزیراعظم کی ان عالمی خدمات کا معترف ہے۔
نتیجہ
میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان آج ایک “ذمہ دار اور امن پسند” ریاست بن چکا ہے۔ ان کی بہترین سفارت کاری کو آج دنیا کے بڑے لیڈرز مان رہے ہیں۔ اگر نوبل انعام کا معیار واقعی انسانیت کی خدمت ہے، تو بلاشبہ یہ اعزاز میاں محمد شہباز شریف کے نام ہونا چاہیے۔ شہباز شریف کی یہ کامیابی دراصل ہر اس پاکستانی کی کامیابی ہے جو امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے

امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *