تفتیشی افسر عدالت سے فرار سخت کاروائی کا حکم ۔پولیس کی مبینہ زیادتی بے نقاب – اردو پوائنٹ پریس

۔جوڈیشل مجسٹریٹ آصف علی کی عدالت نے جس جرات اور دیانت داری کے ساتھ اس کیس کو سنا، وہ قابل تحسین ہے۔ عدالت نے نہ صرف بے گناہ خواتین کو رہا کیا

شیخوپورہ عدالت کی عمارت اور پولیس نظام میں اصلاحات کا مطالبہ

شیخوپورہ (رانابابرسلیم سے)شیخوپورہ میں پولیس کی مبینہ زیادتی بے نقاب، عدالت نے خواتین کو بری کرتے ہوئے تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔شیخوپورہ میں حالیہ عدالتی کارروائی نے ایک بار پھر ہمارے پولیس نظام کی کمزوریوں اور روایتی کلچر کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شیخوپورہ کی عدالت میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک مقدمہ نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جہاں اختیارات کا ناجائز استعمال، بے گناہوں کو ہراساں کرنا اور انصاف کے تقاضوں کو پس پشت ڈالنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ آصف علی کی عدالت نے جس جرات اور دیانت داری کے ساتھ اس کیس کو سنا، وہ قابل تحسین ہے۔ عدالت نے نہ صرف بے گناہ خواتین کو رہا کیا بلکہ تفتیشی افسران کی مبینہ جعلسازی، جھوٹے الزامات اور اختیارات کے غلط استعمال کو بھی واضح کیا۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ آج بھی انصاف کی آخری امید ہے۔یہ واقعہ ہمارے پولیس نظام میں موجود ان خامیوں کو اجاگر کرتا ہے جنہیں برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمات درج کرنا، شہریوں کو ہراساں کرنا، رشوت کا مطالبہ کرنا اور پھر عدالتی عمل کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرنا—یہ سب ایک ایسے کلچر کی نشاندہی کرتے ہیں جو اصلاح کا متقاضی ہے۔ جب محافظ ہی قانون کی خلاف ورزی کرنے لگیں تو عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوتا ہے۔

سخت قانونی کارروائی اور مثال قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کیس میں عدالت کی جانب سے ریکارڈ کو سیل کر کے اعلیٰ حکام کو بھجوانا اور محکمانہ و فوجداری کارروائی کی ہدایت دینا ایک مثبت پیش رفت ہے

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس نظام میں بنیادی سطح پر اصلاحات کی جائیں۔ تفتیشی عمل کو شفاف بنایا جائے، افسران کی تربیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور احتساب کا ایسا مؤثر نظام قائم کیا جائے جہاں کسی بھی اہلکار کو قانون سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔ صرف معطلی یا تبادلے جیسے اقدامات کافی نہیں، بلکہ سخت قانونی کارروائی اور مثال قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس کیس میں عدالت کی جانب سے ریکارڈ کو سیل کر کے اعلیٰ حکام کو بھجوانا اور محکمانہ و فوجداری کارروائی کی ہدایت دینا ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچیں گی یا ماضی کی طرح یہ معاملہ بھی فائلوں میں دب کر رہ جائے گا؟عوامی سطح پر بھی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے حقوق سے آگاہ ہوں اور کسی بھی زیادتی کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ انصاف کا نظام تبھی مضبوط ہوگا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کے پابند ہوں گے۔ اگر پولیس نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے واقعات نہ صرف بڑھتے جائیں گے بلکہ معاشرے میں انصاف کا تصور بھی دھندلا جائے گا۔

خدارا ہمیں پاکستان سے بچائیں، طالبان حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *