حضرت علی المرتضیٰؓ ، شیرِ خدا، معیارِ حق اور خاندانِ نبوت کا چشم و چراغ

حضرت علی المرتضیٰؓ، شیرِ خدا، مولیٰ الموحدین، دامادِ رسولِ اکرم ﷺ اور سیدہ فاطمہ الزہراءؓ کے شوہر، وہ عظیم ہستی ہیں جن کی ذات ایمان، شجاعت، علم، حلم، عدل اور وفا کا کامل نمونہ ہے۔ آپؓ نے بچپن ہی میں اسلام قبول کیا اور آغاز ہی سے نبی کریم ﷺ کے سچے جانثار، محافظ اور رفیق بن کر ابھرے۔ علیؓ کی زندگی دراصل نبوی تربیت کا عملی عکس ہے۔ہ
شقِ رسول ﷺ اور ہجرت کی وہ عظیم رات
جرت کی رات جب کفارِ مکہ نبی کریم ﷺ کے قتل کے درپے تھے اور گھر کو گھیر چکے تھے، حضرت علیؓ کا حضور ﷺ کے بستر پر سو جانا تاریخِ اسلام کا وہ روشن باب ہے جو عشقِ رسول ﷺ اور توکل علی اللہ کی بے مثال مثال بن گیا۔ دشمن تلواریں سونتے کھڑے تھے، مگر علیؓ اطمینان سے سو گئے، کیونکہ ان کے لیے نبی ﷺ کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر تھی۔میدانِ بدر میں ولید جیسے نامور سورما کو پچھاڑنا ہو، اُحد میں ٹوٹتے ہوئے لشکر کے بیچ نبی ﷺ کے گرد ڈھال بن جانا ہو، خندق میں عمرو بن عبدود جیسے ناقابلِ شکست پہلوان کو خاک چٹانا ہو، یا خیبر میں مرحب کو واصلِ جہنم کر کے قلعے کا دروازہ اکھاڑ لینا ہو ، تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علیؓ میدانِ جنگ میں ناقابلِ تسخیر رہے۔
میدانِ بدر میں ولید…” سے لے کر “…فاتحِ خیبر کہلائے” تک
کوئی انہیں شکست نہ دے سکا۔ اسی لیے آپؓ ہمیشہ کے لیے فاتحِ خیبر کہلائے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا،کل میں علم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔یہ اعزاز علیؓ کے حصے میں آیا۔واقعۂ غدیرِ خم میں رسولِ اکرم ﷺ نے ہزاروں کے مجمع میں حضرت علیؓ کا ہاتھ بلند کر کے اعلان فرمایا،من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ”اور دعا کی “اے اللہ! جو علیؓ سے محبت کرے تو اس سے محبت فرما، اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی فرما۔یہ اعلان حضرت علیؓ کے قربِ رسول ﷺ اور امت میں ان کے بلند مقام کی روشن دلیل ہے۔حضرت علیؓ وہ واحد ہستی ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ کے مبارک کندھوں پر سوار ہو کر کعبہ سے بت گرانے کا شرف ملا۔ حضور ﷺ نے آپؓ کو اپنا بھائی قرار دیا اور فرمایا، اے علی! تم سے میری وہی نسبت ہے جو موسیٰؑ کو ہارونؑ سے تھی، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔”یہ نسبت بتاتی ہے کہ علیؓ نبوت کے گھرانے کے سب سے قریبی اور معتمد فرد تھے۔آپؓ شجاعت ہی نہیں، علم و فضل میں بھی بے مثال تھے۔ فرمایاکرتے“سلونی قبل ان تفقدونی” مجھ سے پوچھ لو اس سے پہلے کہ میں تم میں نہ رہوں۔
بابِ علم: فہمِ قرآن اور حکمت کا سرچشمہ
رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔قضا، فتویٰ اور فہمِ قرآن میں بڑے بڑے صحابہؓ آپؓ کی طرف رجوع کرتے۔ علم میں بھی کوئی آپؓ کا ہمسر نہ تھا۔لیکن اس ساری عظمت کے باوجود حضرت علیؓ سراپا عاجزی اور حلم تھے۔ آپؓ کی طاقت صرف اسلام کی وسعت اور حق کے قیام کے لیے تھی، اپنی ذات کے لیے نہیں۔ جہاں اپنا حق درپیش ہوا، وہاں صبر اور خاموشی کو ترجیح دی؛ مگر جہاں دین اور رسولِ اکرم ﷺ کی حفاظت کا سوال آیا، وہاں ہمیشہ سینہ سپر رہے۔ آپؓ جانتے تھے کہ کچھ دلوں میں پرانے کینے باقی ہیں، مگر انہوں نے حکمت سے کام لیا تاکہ نہ اسلام کمزور ہو اور نہ خاندانِ نبوت پر کوئی انگلی اٹھے۔ یہ خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ دین کو بچانے کی عظیم حکمت تھی۔خلافت کے دور میں آپؓ کو ایسے فتنوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ سامنے آیا، حالانکہ حضرت علیؓ اس سانحے سے بری تھے۔ آپؓ نے اپنے خطوط اور بیانات میں واضح کیا کہ انصاف ضرور ہوگا، مگر پہلے امت کو سنبھالنا اور فتنہ کو ختم کرنا ضروری ہے، کیونکہ بغیر استحکام کے قصاص صرف نعرہ بن جاتا ہے۔ یوں علیؓ ہر حال میں حق، عدل اور امت کے مفاد پر قائم رہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے۔علی جہاں کھڑے ہوتے، حق خود ادھر کا رخ کر لیتا تھا۔”حضرت علیؓ کی راتیں عبادت، آنسو اور سجدوں میں گزرتیں، اور دن عدل، خدمت اور جہاد میں۔ یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھنا، بیواؤں کے گھروں میں راشن پہنچانا، اور خود سادہ روٹی اور نمک پر گزارا کرنا ، یہ سب بتاتا ہے کہ علیؓ کی بادشاہی دلوں پر تھی، تختوں پر نہیں۔ آپؓ کا کردار دیکھ کر صاف جھلکتا ہے کہ یہ دامادِ نبی ﷺ ہیں، نبوت کے گھرانے کے وہ چشم و چراغ جن کی روشنی سے پورا زمانہ منور ہوا۔وفاداری، خاندانِ نبوت کے ساتھی اور صحابہؓ حضرت علیؓ کی عظمت صرف ان کی ذات تک محدود نہیں رہی، بلکہ ان کے اصحاب اور آلِ نبی کے ساتھی بھی ہر دور میں عزت و احترام کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کے صحابہ اور پھر حضرت علیؓ کے اصحاب نے ہمیشہ دین، عدل اور اصول پسندی کے لیے اپنی جان اور مال قربان کیا۔ ان کا مقصد اپنی ذاتی شہرت یا نام و نشان نہیں تھا، بلکہ دینِ اسلام کی سربلندی اور خاندانِ نبوت کے تحفظ میں رہنا تھا۔خاندانِ نبوت کے جو ساتھی حضرت علیؓ کے ساتھ کھڑے رہے، وہ آج بھی تاریخ اور امت میں معزز سمجھے جاتے ہیں۔
اتحادِ امت اور اعتدال: سیرتِ علیؓ کا پیغام
چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی ان کے نام اور خدمات یاد کیے جاتے ہیں، کیونکہ ان کی محبت و وفاداری صرف ذاتی نہیں بلکہ امت کی رہنمائی کے لیے قربانی کا عکاس تھی۔ یہی خاندانِ نبوت کا خاصہ ہے: اپنی ذات کو چھپانا، حق اور عدل کے لیے کھڑا ہونا، اور نبی ﷺ اور اہلِ بیتؓ کی محبت میں ڈوب جانا۔ اہلِ بیتؓ اور صحابہؓ دونوں اسلام کی بنیاد اور امت کی رہنمائی کے ستون ہیں۔ ان دونوں کے درمیان اعتدال پیدا کرنا امت کے لیے نہایت ضروری ہے: اہلِ بیتؓ کا ذکر فخر سے کرنا، یہ ذکر دراصل رسولِ اکرم ﷺ کے گھرانے کا ذکر ہے، اور یہ محبت ایمان کی تازگی اور عشقِ رسول ﷺ کا مظہر ہے۔ ان کے نام گھروں پر لکھنا اور بچوں کے نام رکھنا ، یہ نسلوں کو نبوی سیرت سے جوڑتا ہے اور گھر کو نورانی نسبتی تعلق عطا کرتا ہے۔یہ امت کے لیے عملی نمونہ ہے: صبر، عدل، شجاعت اور تقویٰ کے لیے رہنمائی۔صحابہؓ دین کے پہلے محافظ اور رسول ﷺ کے ساتھی ہیں۔ ان کا ادب امت کو متحد رکھتا ہے اور دین کی روشنی قائم رکھتا ہے۔اعتدال کی تعلیم اہلِ بیتؓ سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ صحابہؓ کے احترام میں کمی ہو، اور صحابہؓ کا ادب کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اہلِ بیتؓ کے ذکر سے جھجک پیدا ہو۔ یہی توازن امت کو مضبوط، متحد اور عشقِ رسول ﷺ میں مستحکم رکھتا ہے۔کل حضرت علی المرتضیٰؓ کا یومِ ولادت تھا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علیؓ کی زندگی امتِ مسلمہ کے لیے شجاعت، علم، عدل، صبر اور عشقِ رسول ﷺ کی زندہ مثال ہے۔ ہمارا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں، بلکہ اس عظیم ہستی کے اُس مقام کو دنیا کے سامنے لانا ہے جو ان کی بے مثال خدمات اور نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کی بنیاد پر انہیں حاصل ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت علی المرتضیٰؓ کی محبت نصیب فرمائے، ان کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے، اور ہمیں اہلِ بیتؓ سے سچی محبت اور تمام صحابہؓ کے ادب کے ساتھ ایمان پر قائم رکھے۔
آمین۔
مزید پڑھیے: فاتحِ خیبر: فزکس کے قوانین سے ماورا شجاعت

