گوجرانوالہ میں ‘پولیس گردی’ عروج پر، پرائم منسٹر پورٹل بھی کرپٹ افسران کے سامنے فیل!

​شکایت کرنے والے شہری کو ‘اغوا’ کر لیا گیا؛ کیا کلیم عارف ریاستِ پاکستان اور وزیرِ اعظم کے پورٹل سے بھی زیادہ

طاقتور ہے؟

​گوجرانوالہ (چیف رپورٹر): گوجرانوالہ پولیس کے کرپٹ عناصر نے وزیرِ اعظم پاکستان کے “سٹیزن پورٹل” کی ساکھ خاک میں ملا دی۔ سب انسپکٹر کلیم عارف کی بھتہ خوری اور ظلم کے خلاف پورٹل پر آواز اٹھانے کا جرم ‘خوفناک’ نکلا؛ پولیس نے شکایت پر ایکشن لینے کے بجائے شکایت کنندہ کے بھائی حمید اللہ کو ہی غائب کر دیا۔ گزشتہ رات سے شہری کے لاپتہ ہونے پر نظامِ عدل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
​پورٹل پر شکایت کی سزا ‘اغوا’؟
ذرائع کے مطابق، صحافی ملک توصیف احمد نے جب پورٹل پر پولیس کی جھوٹی رپورٹ کو چیلنج کیا اور ثبوت پیش کیے، تو اس کے فوراً بعد انتقامی کارروائی کے طور پر حمید اللہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کو نہ تو اعلیٰ افسران کا خوف ہے اور نہ ہی وزیرِ اعظم پورٹل کی مانیٹرنگ کا، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ انکوائری رپورٹ میں وہی لکھا جائے گا جو وہ چاہیں گے۔
​کلیم عارف: کتنا قیمتی ہے یہ ‘کماؤ پوت’؟

ولیس کو نہ تو اعلیٰ افسران کا خوف ہے اور نہ ہی وزیرِ اعظم پورٹل کی مانیٹرنگ کا، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ انکوائری رپورٹ میں وہی لکھا جائے گا جو وہ چاہیں گے۔
​کلیم عارف: کتنا قیمتی ہے یہ ‘کماؤ پوت’


عوامی حلقے یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہیں کہ آخر سب انسپکٹر کلیم عارف گوجرانوالہ پولیس کے افسران کے لیے کتنا قیمتی ہے؟ کیا اس ایک افسر کی “مبینہ مالی خدمات” اتنی زیادہ ہیں کہ اسے بچانے کے لیے ایک خاندان کی خوشیاں برباد کرنے، بے گناہ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے اور اب اسے غائب کرنے کی بھی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے؟ کیا سی پی او سردار غیاث کی ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی صرف دکھاوا ہے؟
​ریاست کے اندر ریاست:
شہریوں نے آئی جی پنجاب اور وزیرِ اعظم پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرانوالہ میں “ریاست کے اندر ریاست” قائم کرنے والے ان وردی پوش اغوا کاروں کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ اگر حمید اللہ کو کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری سی پی او گوجرانوالہ

​مزید پڑھیں

​پراسرار گمشدگی کا ڈراپ سین: حمید اللہ گھر پہنچ گئے، مگر سوالات کے انبار چھوڑ گئے! ⚖️❓

​”گوجرانوالہ سے لاپتہ ہونے والے حمید اللہ بحفاظت اپنے گھر پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کی واپسی نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔ دو نامعلوم افراد انہیں رکشے پر گھر چھوڑ کر گئے، جبکہ ان کا موبائل اور موٹر سائیکل اب بھی غائب ہے۔
​حمید اللہ کے جسم پر نشانات اور ان کی حالت کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ کیا یہ واقعی پولیس گردی کا معاملہ تھا یا اس کے پیچھے کچھ اور حقائق پوشیدہ ہیں؟
​ملک توصیف احمد اور ‘اردو پوائنٹ پریس’ کسی بھی بے جا الزام تراشی کے بجائے صرف حقائق پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اس معاملے کی گہرائی تک جا رہے ہیں تاکہ سچ عوام کے سامنے آ سکے۔ ابتدائی شواہد اور حمید اللہ کے بدلتے بیانات نے کیس کا رخ موڑ دیا ہے۔ 🖋️
​✅ کیا وہ واقعی پولیس کی حراست میں تھے؟
✅ نامعلوم رکشہ سوار کون تھے؟
✅ موٹر سائیکل اور موبائل کہاں گئے؟
​ہماری ٹیم مزید حقائق اکٹھے کر رہی ہے، جلد مکمل رپورٹ پیش کی جائے گی۔”
​#MalikTouseefAhmed

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *