خصوصی تجزیاتی رپورٹ: اسرائیل کا “ڈیتھ وارنٹ” اور عالمی ضمیر کی منافقت

جنیوا کنونشن کا جنازہ

اسرائیل کا فلسطینیوں کو پھانسی کا کالا قانون اور عالمی طاقتوں کا دوہرا معیار

​یروشلم/تل ابیب (عالمی بیورو رپورٹ): عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ “کنیسٹ” نے فلسطینیوں کو پھانسی دینے کا کالا قانون منظور کر لیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ علاقوں میں پہلے ہی انسانیت سوز مظالم کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔

​خبر: ’90 دن میں موت’— اسرائیلی ریاست کا سفاکانہ فیصلہ

سرائیل کی جانب سے منظور کیے گئے اس وحشیانہ بل کے مطابق اب کسی بھی ایسے فلسطینی کو سزائے موت دی جا سکے گی جسے اسرائیلی ریاست اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ یا “باغی” تصور کرے گی۔ سزا کے اعلان کے بعد عملدرآمد کے لیے صرف 90 دن کا وقت دیا گیا ہے، جو کہ عالمی قانونی تاریخ میں دفاع کے حق کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔​شک کی بنیاد پر گرفتاری: اب محض شک کی بنیاد پر کسی بھی فلسطینی کو اٹھا کر اسے اس کالے قانون کے شکنجے میں کسا جا سکے گا۔ زیرِ حراست فلسطینیوں کو وکلاء یا گھر والوں سے ملنے کی اجازت بھی انتہائی محدود کر دی گئی ہے تاکہ قانونی جنگ کا راستہ روکا جا سکے۔

ٹرمپ کی منافقت اور ایران کا تذکرہ – مذہبی مقامات اور عالمی دہرا معیار

یاد رہے کہ یہی ڈونلڈ ٹرمپ تھے جنہوں نے ایران کو سرِ عام دھمکی دی تھی کہ اگر وہاں احتجاجی مظاہرین یا حکومت مخالفین کو سزائے موت دی گئی تو امریکہ ایران پر براہِ راست فوجی حملہ کر دے گا۔ لیکن آج جب اسرائیل وہی سزائے موت ان فلسطینیوں کو دینے جا رہا ہے جو اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، تو ٹرمپ اور ان کی لابی کے لبوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔ کیا انسانی حقوق کی تعریف جغرافیے اور وفاداریوں کے بدلنے سے بدل جاتی ہے؟مغرب کی منافقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب یورپ کے کسی چرچ میں داخلے پر معمولی پابندی لگتی ہے تو پوری مغربی دنیا “مذہبی آزادی” کا واویلا مچاتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیتی ہے۔ مگر دوسری جانب، قبلہ اول مسجدِ اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے پر جب اسرائیل پابندی لگاتا ہے اور فلسطینیوں کو اپنے مقدس ترین مقام سے بے دخل کرتا ہے، تو دنیا بھر کا میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبردار “مجرمانہ خاموشی” اختیار کر لیتے ہیں۔عالمی ماہرین قانون کے مطابق یہ بل جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو مقبوضہ علاقوں کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل کا یہ “کالا قانون” دراصل فلسطینیوں میں خوف و ہراس پیدا کر کے ان کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

پاک فوج کا افغان طالبان کو منہ توڑ جواب


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *