ریکوری مافیا’ کے خلاف عوامی غم و غصہ؛ گوجرانوالہ سائبر کرائم ونگ میں کرپشن کے سنسنی خیز انکشافات
گوجرانوالہ (رپورٹ ملک توصیف احمد ) گوجرانوالہ میں سائبر کرائم ونگ کی مبینہ بے ضابطگیوں پر مبنی خبر نے ڈیجیٹل دنیا میں طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر صرف چند گھنٹوں میں اس خبر کو 50 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا، جبکہ ہزاروں متاثرین نے کمنٹس اور پیغامات کے ذریعے اپنے ساتھ ہونے والے ‘سرکاری استحصال’ کی داستانیں بیان کر دی ہیں۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے عوامی ردعمل کے مطابق عقیل شہزاد چغتائی نامی شہری نے انکشاف کیا ہے کہ اسی محکمے کے ایک افسر نے انہیں اور ان کے مالک کو ذہنی کوفت کا شکار بنا کر ریکوری کے نام پر 10 لاکھ روپے بٹور لیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ حفاظت کے لیے نہیں بلکہ شریف شہریوں کو لوٹنے کے لیے بن چکا ہے۔
وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے عوامی مطالبات
عثمان جی نامی متاثرہ شخص نے دہائی دی کہ ان کا موبائل فون مہینوں سے ایف آئی اے کے پاس ہے، تفتیش کے نام پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور الٹا انہیں یہ کہہ کر ٹرخا دیا گیا کہ مجرم ملک سے فرار ہو گیا ہے۔محمد تبارک گجر نے بھی ایک افسر (ذیشان یوسف) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جولائی سے ان کے عزیز کا موبائل فون تاحال واپس نہیں کیا گیا۔خبر کے وائرل ہونے اور لاکھوں افراد تک رسائی کے بعد گوجرانوالہ کے شہریوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انفرادی شکایات اور عوامی کمنٹس کو بطورِ ثبوت ریکارڈ کا حصہ بنا کر گوجرانوالہ سائبر کرائم ونگ کا فوری اسپیشل آڈٹ کرایا جائے۔ جن شہریوں کے موبائل فون مہینوں سے قبضے میں ہیں، انہیں فوری واپس کیا جائے یا ضبطی کی باقاعدہ سرکاری رسید فراہم کی جائے۔جن شہریوں سے ‘ریکوری’ کے نام پر بغیر رسید رقوم لی گئیں، ان افسران کو معطل کر کے رقم واپس دلائی جائے۔وزیر داخلہ خود یا ان کا نمائندہ گوجرانوالہ میں کھلی کچہری لگائے تاکہ متاثرین بالمشافہ اپنے ثبوت پیش کر سکیں۔یہ خبر اب محض ایک رپورٹ نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک بن چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس ڈیجیٹل ڈکیتی اور محکمانہ کرپشن کا نوٹس نہ لیا، تو اداروں پر عوام کا بچا کھچا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔
اس سے قبل: نیشنل سائبر کرائم ونگ گوجرانوالہ میں کرپشن کا ‘پینڈورا باکس’ کھل گیا؛ [یہاں پچھلی خبر کا لنک لگائیں]“

