نیشنل سائبر کرائم ونگ گوجرانوالہ میں کرپشن کا ‘پینڈورا باکس’ کھل گیا؛ سوشل میڈیا پر عوامی احتجاج کا طوفان
نیشنل سائبر کرائم گوجرانوالہ میں جاری مبینہ بے ضابطگیوں اور شہریوں کے استحصال کے خلاف سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ پھٹ پڑا ہے…”گوجرانوالہ (رپورٹ ملک توصیف احمد) نئے بننے والے نیشنل سائبر کرائم ونگ گوجرانوالہ میں جاری مبینہ بے ضابطگیوں اور شہریوں کے معاشی و نفسیاتی استحصال کے خلاف سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ پھٹ پڑا ہے۔ چند گھنٹوں میں 65 ہزار سے زائد ویوز اور سینکڑوں شکایات نے ادارے کے اندر چھپی کالی بھیڑوں کے “فنانشل ٹریپ” کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
سائبر کرائم گوجرانوالہ میں اکاؤنٹس فریز کرنے کا طریقہ کار
, رپورٹ کے مطابق، نیشنل سائبر کرائم ونگ میں استحصال کو دو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پڑھے لکھے اور کاروباری افراد کے بینک اکاؤنٹس فریز کرنا اب ایک باقاعدہ ہتھیار بن چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، شہریوں کے اکاؤنٹس بلاک کر کے انہیں معاشی طور پر مفلوج کیا جاتا ہے اور پھر مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی “ڈیل” کے بعد انہیں غیر قانونی طور پر “ان فریز” (Unfreeze) کر دیا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیشن ان تمام افراد کے بیانِ حلفی قلمبند کرے جن کے اکاؤنٹس فریز اور پھر پراسرار طور پر بحال ہوئے، تاکہ “رشوت کی بہتی گنگا” کا سراغ لگایا جا سکے۔دیہی اور ناخواندہ شہریوں کے ساتھ ہونے والا ظلم اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ڈیجیٹل فراڈیے (Hackers) سادہ لوح دیہاتیوں کو فری سم یا انعامات کا جھانسہ دے کر ان کے نام پر ایزی پیسہ یا جاز کیش اکاؤنٹس بنواتے ہیں۔ انکشاف ہوا ہے کہ یہ فراڈیے سائبر کرائم کے اہلکاروں سے “ڈیل” کر کے ڈھیل حاصل کر لیتے ہیں، جبکہ تفتیش کا سارا ملبہ ان غریب شہریوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو اپنے نام پر ہونے والے جرم سے مکمل لاعلم ہوتے ہیں۔شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ سالہا سال سے بغیر کسی قانونی رسید (Seizure Memo) کے قبضے میں رکھے گئے موبائل فونز کا نجی ڈیٹا اور فیملی تصاویر مبینہ طور پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ اگر یہ فونز کسی تفتیش کا حصہ ہیں تو برسوں تک انہیں بغیر کسی منطقی انجام کے اپنے پاس رکھنا ان افسران کی نیت پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔عوام اس بات پر برہم ہیں کہ جس ونگ کو افواجِ پاکستان، حکمرانوں اور شہریوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی تھی، وہ صرف “دیہاڑی” لگانے میں مصروف ہے۔ ملزمان کو ڈھیل اور سائلین کو ذلیل کرنے کا یہ سلسلہ اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔سوشل میڈیا پر شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور ڈی جی نیشنل سائبر کرائم ونگ سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرانوالہ سرکل کے ان افسران کے خلاف فوری جوڈیشل انکوائری شروع کی جائے اور مظلوموں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
#MalikTouseefAhmed #mohsinnaqvi #NCCA
