​فاتحِ امن: ایران امریکہ کشیدگی اور پاکستانی قیادت کا تاریخی کردار | تحریر: افتخار

​پاکستان کی امن سفارت کاری

فاتح امن

تحریر:افتخاربٹ

عالمی سیاست کے نازک موڑ پر جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ رہی تھی، ایسے میں پاکستان کی قیادت نے نہایت تدبر، حکمت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف ایک متوازن مؤقف اختیار کیا بلکہ عملی سفارت کاری کے ذریعے خطے میں امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔اس تمام عمل میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا تجربہ اور سیاسی بصیرت بھی ایک اہم ستون کے طور پر سامنے آئی۔ بطور سینئر رہنما، انہوں نے پسِ پردہ رہ کر قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے قیادت کی رہنمائی کی۔ ان کی ماضی کی سفارتی حکمت عملی اور عالمی روابط نے اس حساس صورتحال میں پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک کے طور پر دنیا کے سامنے آیا۔اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی اس عمل میں اپنا مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف عوامی سطح پر امن کے بیانیے کو فروغ دیا بلکہ سوشل اور سیاسی پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان جنگ نہیں بلکہ امن کا خواہاں ہے۔ ان کی متحرک قیادت اور واضح مؤقف نے پاکستان کے نرم اور مثبت امیج کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششیں قابلِ ذکر رہیں۔ اعلیٰ سطحی رابطوں، عالمی رہنماؤں سے مشاورت اور متوازن پالیسی کے ذریعے پاکستان نے ایک پل کا کردار ادا کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے صرف اپنے مفاد کے بجائے پورے خطے کے امن کو ترجیح دی، اور یہی ایک ذمہ دار ریاست کی پہچان ہوتی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک افواج کی پیشہ ورانہ تیاری نے اس سفارتی عمل کو مزید تقویت دی۔ ایک جانب مضبوط دفاعی پیغام تھا تو دوسری جانب سیاسی قیادت کی امن پسندی یہ امتزاج پاکستان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈمارشل عاصم منیر، میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے مل کر ایک ایسی قیادت کا مظاہرہ کیا جس نے نہ صرف ممکنہ بحران کو ٹالا بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار، سنجیدہ اور امن پسند ملک کے طور پر منوایا۔ آنے والے وقت میں یہ باب پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔آج قوم کو چاہیے کہ وہ اس مثبت قیادت کا ساتھ دے اور اتحاد و یکجہتی کے ذریعے ملک کو مزید مضبوط بنائے، کیونکہ جب قیادت مخلص اور قوم متحد ہو تو کوئی بھی چیلنج بڑا نہیں رہتا۔

وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈمارشل عاصم منیر، میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف

​ایران کے ’سپر جھٹکے‘: امریکہ میں آرمی چیف تبدیل، اسرائیلی انٹیلی جنس سربراہ غائب | تجزیہ: ملک توصیف احمد


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *