مہنگائی کا طوفان اور عوام پر قیامت: افتخار بٹ کا خصوصی کالم

پاکستان ایک بار پھر مہنگائی کے اس نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنستا جا رہا ہے جہاں سے نکلنے کی کوئی واضح راہ دکھائی نہیں دیتی۔

 پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں پر احتجاجی تصویر

پاکستان ایک بار پھر مہنگائی کے اس نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنستا جا رہا ہے جہاں سے نکلنے کی کوئی واضح راہ دکھائی نہیں دیتی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ نہ صرف ایک معاشی فیصلہ ہے بلکہ یہ عوام کے لیے ایک نئے عذاب کا آغاز بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک عوام اس بوجھ کو برداشت کرتے رہیں گے؟پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ درحقیقت مہنگائی کے اس طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جیسے ہی پٹرول مہنگا ہوتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ جاتے ہیں، مال برداری مہنگی ہو جاتی ہے اور اس کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ یوں ایک عام آدمی جو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہوتا ہے، مزید پریشانی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔دیہات سے شہروں تک سبزی، آٹا، پھل اور دیگر ضروری اشیاء ٹرکوں اور گاڑیوں کے ذریعے پہنچتی ہیں۔ جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو ہر چیز کی قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ ایک طرف مزدور کی دیہاڑی وہی رہتی ہے، دوسری طرف اس کے بچوں کے لیے روٹی کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جسے حکومتی ایوانوں میں شاید محسوس نہیں کیا جاتا۔حکومت کی جانب سے بار بار یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس کی وجہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو صرف جواز چاہیے یا ریلیف؟ کیا ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے شہریوں کو اس بوجھ سے بچانے کے لیے متبادل راستے تلاش کرے؟پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف مہنگائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ صنعتکار کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، فیکٹریاں بند ہونے لگتی ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور سرمایہ کار عدم استحکام کا شکار ہو کر ملک سے سرمایہ نکالنے لگتے ہیں۔ یوں ایک فیصلہ پورے معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بھی عوام کے لیے دوہرا عذاب بن چکا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو بجلی کی پیداوار بھی مہنگی ہو جاتی ہے، اور اس کا بوجھ بھی بلوں کی صورت میں عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک عام شہری جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے، اب بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہمارے حکمران خود بھی ان مشکلات کو محسوس کرتے ہیں؟ جب ان کے پروٹوکول، مراعات اور شاہانہ اخراجات کم نہیں ہوتے تو پھر عوام سے قربانی کی توقع کیوں کی جاتی ہے؟ یہ دوہرا معیار عوام میں بے چینی اور غصے کو جنم دیتا ہے۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کو مایوسی کی اس حد تک لے جا سکتا ہے جہاں وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کا صبر ٹوٹتا ہے تو بڑے بڑے نظام بھی ہل کر رہ جاتے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور فوری اقدامات کرے۔پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں کمی کی جائے،عوام کو سبسڈی فراہم کی جائے۔مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔سرکاری اخراجات میں واضح کمی کی جائےیہ اقدامات وقتی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ہونے چاہئیں، ورنہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔آخر میں ایک تلخ مگر سچ سوال کیا پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایک معاشی فیصلہ ہے، یا یہ عوام کی برداشت کا امتحان لیا جا رہا ہے؟

ٹرمپ کے ہوائی قلعے اور سمندر کے تلخ حقائق: ‘سند یافتہ چھڈو’ کے خطاب کا مکمل پوسٹ مارٹم


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *