آبنائے ہرمز پر ایران کا پہرہ سخت: دوستوں کے لیے راستہ کھلا، دشمنوں کے لیے سمندر بند

تہران/اسلام آباد (بیورو چیف)
مشرقِ وسطیٰ کے بحری محاذ سے بڑی خبر؛ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ایران کی جانب سے نرمی کا اشارہ دیا تھا۔اطلاعات کے مطابق، ایران نے خیر سگالی کے طور پر 10 تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اس کے فوراً بعد سمندری حدود کو دوبارہ سیل کر دیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے تین مزید غیر ملکی تیل بردار بحری جہازوں کو ایرانی فورسز نے زبردستی واپس موڑ دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو عبرتناک انجام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس ناکہ بندی کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، چین، روس، عراق اور بھارت کے جہازوں کو گزرنے کی خصوصی اجازت دی جا چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “آبنائے ہرمز دوستوں کے لیے کھلی ہے لیکن دشمنوں کے لیے یہاں سے گزرنا اب ناممکن ہو چکا ہے”۔دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک “تزویراتی ہتھیار” کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس بندش سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور سپلائی چین متاثر ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جس نے واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
امریکہ ایران مذاکرات: 15 نکات، نورا کشتی کا اختتام اور پاکستان کا کردار
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

