ہرمز کی لہریں اور امریکی زوال: تزویراتی تجزیہ از ملک توصیف احمد

کالم: بس سٹاپ
ہرمز کی لہریں اور گرتی ہوئی عالمی دیواریں
تحریر: ملک توصیف احمد
عالمی سیاست کے افق پر اس وقت جو بادل منڈلا رہے ہیں، وہ کسی عام بارش کے نہیں بلکہ ایک تزویراتی (Strategic) سونامی کا پیش خیمہ ہیں۔ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کا تنازع افغانستان کی طرح طول پکڑتا ہے، تو یہ محض مشرقِ وسطیٰ کا جغرافیہ نہیں بدلے گا، بلکہ واشنگٹن کی وہ “سپر پاور” حیثیت بھی قصہ پارینہ بن جائے گی جس کا رعب دہائیوں سے قائم تھا۔
ایران بمقابلہ افغانستان: ایک مختلف جغرافیائی دلدل
امریکہ کے لیے سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ ایران کو افغانستان جیسا “آسان ہدف” سمجھ رہا ہے۔ افغانستان ایک لینڈ لاکڈ ملک تھا جہاں مزاحمت صرف پہاڑوں تک محدود تھی، لیکن ایران ایک مکمل “میری ٹائم پاور” ہے جس کے پاس 2400 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور آبنائے ہرمز جیسی عالمی شہ رگ کا کنٹرول ہے۔ ایران میں پھنسنے کا مطلب ہے کہ امریکہ کو نہ صرف زمین پر بلکہ سمندر اور فضا میں بھی ایسی مزاحمت کا سامنا ہوگا جو اس نے کابل یا قندھار میں کبھی دیکھی ہی نہیں۔ ایران کی جغرافیائی وسعت اور اس کا “میزائل نیٹ ورک” امریکہ کے لیے وہ دلدل ثابت ہوگا جہاں سے نکلنا ناممکن بن جائے گا۔
ڈالر بمقابلہ یوآن: معاشی خودکشی کا آغاز
تاریخ گواہ ہے کہ سپر پاورز کی طاقت ان کے ہتھیاروں سے زیادہ ان کی کرنسی میں ہوتی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں ڈالر کے بجائے چینی یوآن میں تجارت کا جو “اکنامک نیوکلیئر بم” پھوڑا ہے، وہ امریکی معیشت کی شہ رگ پر براہِ راست ضرب ہے۔ جب دنیا کی 20 فیصد توانائی کی گزرگاہ پر ڈالر کا بائیکاٹ ہوگا، تو عالمی منڈی میں ڈالر کی طلب ریت کی دیوار کی طرح گرے گی۔ یہ امریکہ کے لگائے گئے ٹیرف اور پابندیوں کا وہ “ریورس وار” ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ اب ڈالر کو بطور ہتھیار استعمال کرنا خود امریکہ کے لیے خودکشی بن چکا ہے۔
رجیم چینج کی ناکامی: مادورو بمقابلہ تہران
امریکہ کی عالمی غنڈہ گردی کا نمونہ ہم نے وینزویلا میں دیکھا، جہاں اس نے صدر نکولس مادورو کے سر کی قیمت لگائی اور اسے ہٹانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا کیونکہ وہ چین کو سستا تیل دے رہا تھا۔ لیکن ایران کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ امریکہ جو “رجیم چینج” کی پالیسی افریقہ اور لاطینی امریکہ میں کامیابی سے چلاتا رہا، وہ تہران کی آہنی دیواروں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی ہے۔ امریکہ مادورو کو تو نشانہ بنا سکا، لیکن ایرانی قیادت کو ہاتھ لگانا اس کے بس سے باہر ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہاں کی انٹیلیجنس اور عسکری قوت (پاسدارانِ انقلاب) کا نیٹ ورک پورے خطے میں امریکی وجود کو مٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی نیت: اسرائیل کا کندھا اور چین کا نشانہ
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کا کندھا استعمال کر کے دراصل ایران پر اپنی من پسند “رجیم” لانے کی کوشش کی ہے۔ اس کا اصل ہدف اسرائیل کی بقا نہیں بلکہ چین کے مفادات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ تہران میں کوئی ایسا مہرہ بیٹھے جو چین کی توانائی کی شہ رگ (Supply Line) کاٹ دے اور سی پیک (CPEC) جیسے منصوبوں کو سبوتاژ کرے۔ خود امریکہ تو جغرافیائی طور پر محفوظ بیٹھا ہے، لیکن وہ اپنے مفاد کے لیے اسرائیل اور عربوں کو اس آگ میں مروا رہا ہے تاکہ چین کا مستقبل تباہ کر سکے۔
انٹیلیجنس کا خمار اور “مصنوعی” جزائر
سی آئی اے اور موساد کا جاسوسی نظام ایران میں انفرادی ہدف کو نشانہ بنانے میں تو شاید کامیاب رہا، لیکن وہ ایران کی “اسٹریٹجک ڈیپتھ” کا اندازہ لگانے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ اگر روس اور چین ایران کو حملوں کی پیشگی اطلاع (Early Warning) فراہم کر رہے ہیں، تو یہ سپر پاور کے لیے بہت بڑا جھٹکا ہے۔ دوسری طرف، امریکہ اب بھی کوکوس آئی لینڈ جیسے جزیروں پر قبضے کی 19ویں صدی والی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ چین نے سمندر کے سینے پر “مصنوعی جزائر” کھڑے کر کے ان “کبھی نہ ڈوبنے والے بحری بیڑوں” کی بنیاد رکھ دی ہے جنہوں نے امریکی بحریہ کو لاجواب کر دیا ہے۔
رازِ سربرہندہ: امریکی حادثات یا ایرانی “الیکٹرانک وارفیئر”؟
یہ اس پورے تنازع کا سب سے پراسرار اور دلچسپ پہلو ہے۔ عالمی مبصرین اس بات پر حیران ہیں کہ جب بھی امریکہ یا اس کے اتحادی ایران پر بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں، تو ان کے ساتھ “قدرتی حادثات” پیش آنے لگتے ہیں۔ حال ہی میں امریکی فضائیہ کے جدید ترین B-35 بمبار طیاروں کے گرنے، بحری جہازوں میں اچانک آگ بھڑکنے، اور عرب ممالک میں امریکی ٹھکانوں پر “تکنیکی خرابی” کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو ماہرین ایرانی الیکٹرانک وارفیئر اور جیمنگ ٹیکنالوجی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ سب “صرف امریکہ” کے ساتھ ہی کیوں ہو رہا ہے؟ ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے تو اسرائیل اور امریکہ دن رات سازشیں کر رہے ہیں، لیکن امریکہ کا نقصان ہمیشہ “قدرتی” یا “تکنیکی” کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ امریکہ کا اپنی رسوائی اور شرمندگی چھپانے کا حیلہ ہے کہ “ہمارا جہاز خراب ہو گیا”، یا پھر پسِ پردہ کوئی “تیسری طاقت” (جیسے روس یا چین) ایران کو ایسی خاموش اور تباہ کن ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے جو امریکی غرور کو خاک میں ملا رہی ہے؟ یہ معمہ اب سپر پاور کی بیوقوفی اور اس کی گرتی ہوئی ہیبت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
پاکستان: ہمت، حکمت اور لاجسٹک پاور
پاکستان اس وقت ایک ایسی “اسمارٹ ڈپلومیسی” پر گامزن ہے جہاں ڈالر اب ہماری مجبوری نہیں بلکہ ایک تزویراتی ڈھال ہے۔ قرض محض وقتی ضرورت ہے، لیکن ہمارا مستقبل چین، ایران اور روس کے “یوریشین بلاک” سے جڑا ہے۔ اگر ایران کا تیل گوادر کی ریفائنری میں آئے گا، تو پاکستان ایران کے خلاف جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پاکستان اب ایک “لاجسٹک پاور” بننے جا رہا ہے، جہاں گوادر اور سی پیک کی شاہراہیں ہمیں وسطی ایشیا اور روس سے جوڑ کر ایک ایسا معاشی مرکز بنا دیں گی جس کے بغیر دنیا کی تجارت ادھوری ہوگی۔
خلاصہ کلام
امریکہ اس وقت ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جو وہ اخلاقی اور معاشی طور پر ہار چکا ہے۔ خلیجی ممالک کا “پاکستان ماڈل” (دونوں طرف رہنا) اپنانا یہ ثابت کرتا ہے کہ اب امریکی فائدہ منقسم ہو رہا ہے اور چین کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے، تو امریکی فوجی اڈے مشرقِ وسطیٰ میں “ناپسندیدہ مہمان” بن کر رہ جائیں گے اور دنیا ایک نئے، ڈالر سے پاک معاشی نظام کی طرف ہجرت کر جائے گا۔
تعارفِ کالم نگار: ملک توصیف احمد گزشتہ پندرہ سالوں سے مختلف قومی و مقامی اخبارات میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ حکومتِ پنجاب 2017 میں آپ کو “بہترین کالم نگار” کا ایوارڈ بھی دے چکی ہے۔
ڈسکلیمر: یہ کالم عالمی میڈیا کی رپورٹس اور تزویراتی تجزیوں پر مبنی علمی و فکری تحریر ہے۔
#MalikTouseefAhmed

ایران اسرائیل جنگ اور عالمی معیشت | تیل کی قیمتوں میں اضافہ | اردو پوائنٹ پریس
#MalikTouseefAhmed
کالم: بس سٹاپ
تعارفِ کالم نگار: ملک توصیف احمد گزشتہ پندرہ سالوں سے مختلف قومی و مقامی اخبارات میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ آپ کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پنجاب 2017 میں آپ کو “بہترین کالم نگار” کا ایوارڈ بھی دے چکی ہے۔
ضروری نوٹ (Disclaimer): مندرجہ بالا کالم خالصتاً بین الاقوامی سیاسی صورتحال، تزویراتی تجزیوں اور عالمی میڈیا میں زیرِ گردش رپورٹس پر مبنی ایک علمی و فکری تحریر ہے۔ اس میں پیش کیے گئے تمام نکات مبصرین کی آراء اور عالمی جغرافیائی تبدیلیوں کے تناظر میں لکھے گئے ہیں، جن کا مقصد قارئین کو مختلف تزویراتی پہلوؤں سے آگاہ کرنا ہے۔
#MalikTouseefAhmed

Nice