ڈیرہ غازی خان: تپتی گرمی میں ژالہ باری نے غریب کسانوں کی کمر توڑ دی، عید کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں

ڈیرہ غازی خان میں ژالہ باری سے تباہ شدہ گندم کی فصل اور مایوس کسان کا منظر

ڈیرہ غازی خان (رپورٹ: چوہدری احمد)
ڈیرہ غازی خان کے تپتے صحراؤں اور سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے کسان کی آنکھوں میں اس بار عید کی خوشیاں گندم کی سنہری بالیوں کی طرح جھلملا رہی تھیں۔ فصل پک کر تیار تھی، کٹائی کا وقت قریب تھا اور گھروں میں عید کی تیاریاں عروج پر تھیں، مگر قدرت کے فیصلے کچھ اور ہی تھے۔ بے رحم موسم نے کسان کے خوابوں پر گویا برف کی چادر تان دی۔
​آج ڈیرہ غازی خان اور گردونواح بشمول درہ سوری لنڈ، بستی کلیری، شادن لنڈ، فوجی سیمنٹ فیکٹری، کوٹ مبارک اور تونسہ کے مضافات میں اچانک بدلتے موسم نے وہ ہولناک منظر دکھایا کہ انسانی آنکھ دنگ رہ گئی۔ غیر معمولی ژالہ باری نے جہاں تپتی گرمی کا زور توڑا، وہیں غریب کسان کی کمر بھی توڑ کر رکھ دی۔ وہ گندم جو چند دن بعد کٹ کر کسان کے گھر کا چولہا جلانے والی تھی، وہ بے رحم اولوں کی تاب نہ لاتے ہوئے زمین بوس ہو گئی۔
​خوشیاں جو ماتم میں بدل گئیں
عید الفطر کی آمد آمد ہے، جہاں عام شہری نئے کپڑوں اور پکوانوں کی تیاری میں مصروف ہیں، وہیں ڈیرہ غازی خان کا کسان آج اپنی اجڑی ہوئی فصل کے سرہانے بیٹھ کر آنسو بہا رہا ہے۔ عید سے محض چند روز قبل آنے والی اس ناگہانی آفت نے سینکڑوں خاندانوں کی خوشیاں چھین لی ہیں۔
​ایک متاثرہ کسان نے دل گرفتہ ہو کر کہا: “ہم سمجھ رہے تھے کہ اس بار گندم بیچ کر بچوں کے نئے کپڑے بنائیں گے اور قرض اتاریں گے، مگر اب تو تن ڈھانپنا اور دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل نظر آ رہا ہے۔”
​حکومت کے لیے لمحہ فکریہ
کسانوں کا یہ کروڑوں روپے کا نقصان محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ متاثرہ زمینداروں اور دہقانوں نے حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ سے دہائی دی ہے کہ فوری طور پر نقصانات کا سروے کروا کر خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
​اگر حکومت نے بروقت ان کسانوں کا ہاتھ نہ تھاما، تو اس بار ڈیرہ غازی خان کے کئی گھروں میں عید کا چولہا نہیں جل سکے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اربابِ اختیار ان محنت کشوں کی “سفید پوشی” کا بھرم رکھیں گے یا یہ طبقہ نظام کی بے حسی کی نذر ہو جائے گا؟

ہرمز کی لہریں اور امریکی زوال: تزویراتی تجزیہ از ملک توصیف احمد

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *