نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی گوجرانوالہ کرپشن اسکینڈل؛ ‘ریکوری مافیا’ بے نقاب، 28 لاکھ کی ڈیل میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے 33 فیصد حصے کا انکشاف

یشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ​گوجرانوالہ (رپورٹ: ملک توصیف احمد)
​پاکستان کا عالمی ڈیجیٹل دنیا میں چوتھے نمبر پر ہونا نوجوانوں کی محنت کا ثبوت ہے، مگر گوجرانوالہ میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور (NCCIA) کے غیر شفاف نظام نے ان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ترقی کی راہ میں دیوار کھڑی کر دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی توجہ ایک ایسے سنگین اسکینڈل کی جانب مبذول کروائی جا رہی ہے جہاں ‘تحفظ’ کے نام پر قائم ادارہ خود ‘ڈیجیٹل ڈکیتیوں’ میں ملوث پایا گیا ہے۔​گزشتہ روز کی خبر اور صحافتی دباؤ کے بعد نیشنل سائبر کرائم ونگ گوجرانوالہ میں کھلبلی مچ گئی، جس کے نتیجے میں ادارے نے خود اعترافی ویڈیوز جاری کیں۔ ان ویڈیوز نے ثابت کر دیا کہ جس ‘بہتی گنگا’ میں پرائیویٹ سیکرٹری سے لے کر اعلیٰ افسران تک ہاتھ دھو رہے ہوں، وہاں عام شہری کا دامن محفوظ رہنا ناممکن ہے۔

لاکھ کی مبینہ ڈیل کے سنسنی خیز حقائق

انکشاف ہوا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم خان میو کے حکم پر شہری نعمان رضا کے گھر غیر قانونی ریڈ کی گئی اور اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنا کر اغوا کیا گیا۔ رہائی کے بدلے 28 لاکھ روپے کی ڈیل ہوئی، جس میں سے 20 لاکھ نقد اور 8 لاکھ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے وصول کیے گئے۔ اعترافی بیانات کے مطابق، اس مبینہ رشوت کی رقم کا 33 فیصد حصہ براہِ راست ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم خان میو کے لیے طے تھا، جبکہ سب انسپکٹر امیر حمزہ چٹھہ اس نیٹ ورک کو آپریٹ کر رہا تھا۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ کیس صرف اس لیے چل رہا ہے کیونکہ دوسری طرف بااثر فریق موجود ہے، جبکہ ہزاروں عام شہری روزانہ ذیشان یوسف جیسے افسران کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں مگر ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔اہلکار ذیشان یوسف کی جانب سے شہری شہباز کا موبائل فون بغیر کسی رسید کے ضبط کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے میں ہزاروں موبائل فونز ‘ڈیجیٹل بلیک میلنگ’ کے لیے غیر قانونی قبضے میں رکھے گئے ہیں۔

عوامی غم و غصہ اور حکام سے مطالبات

صرف چھوٹے مہروں “اہلکار اور پی ایس”کی گرفتاری کافی نہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم خان میو، سب انسپکٹر امیر حمزہ اور ذیشان یوسف کو فوری معطل کر کے شاملِ تفتیش کیا جائے۔ وفاقی حکومت ایک ایسا خصوصی ڈیسک قائم کرے جہاں وہ تمام شہری اپنی شکایات درج کروا سکیں جن سے ماضی میں ریکوری کے نام پر پیسے بٹورے گئے یا جن کے موبائل فونز تاحال واپس نہیں کیے گئے۔متاثرہ شہریوں سے لوٹی گئی رقم برآمد کر کے انہیں واپس کی جائے اور ضبط شدہ ہزاروں موبائل فونز کا فوری آڈٹ کروا کر اصل مالکان کو لوٹائے جائیں۔پی ٹی اے (PTA) کو انٹرنیٹ کی رفتار بہتر بنانے کے احکامات دیے جائیں تاکہ فری لانسرز کا معاشی قتل بند ہو سکے۔اگر انصاف کا معیار صرف ‘فریق کی طاقت’ دیکھ کر طے ہونا ہے، تو ریاست پر عوامی اعتماد ختم ہو جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی ان ‘کالی بھیڑوں’ کا کڑا احتساب کریں جو ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
#maliktouseefahmed#mohsinnaqvi#NCCIA

مزید پڑھیں: ایف آئی اے ‘ریکوری مافیا’ کے خلاف عوامی غم و غصہ؛ متاثرین کے چونکا دینے والے انکشافات

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *