مشرقِ وسطیٰ کا بحران: عالمی طاقتوں کی خواری اور بدلتی ہوئی بساط

تحریر: ملک توصیف احمد (#MalikTouseefAhmed)
مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف بڑی طاقتوں کی تباہی یا نئے عالمی نظام کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی اب روایتی جنگ نہیں رہی، بلکہ یہ روایتی تکبر اور غیر روایتی مزاحمت کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہے۔امریکہ ابھی مشرقِ وسطیٰ میں موجود تو ہے، لیکن اسے کابل ایئرپورٹ کی وہ ذلت آمیز تصاویر ہر لمحہ یاد آتی ہیں جب وہ بدحواسی میں اپنا سامان اور وفادار پیچھے چھوڑ کر بھاگا تھا۔ یہاں امریکہ ایک بڑی غلط فہمی کا شکار ہے۔ افغانستان میں امریکہ صرف “جذبے” سے لڑ کر خوار ہو گیا تھا، وہاں ٹیکنالوجی کا نام و نشان نہ تھا۔ لیکن ایران کے پاس افغانیوں جیسا جذبہ بھی ہے اور جدید ترین ٹیکنالوجی بھی۔ ایران اس قدر خود کفیل ہے کہ وہ روس جیسی ایٹمی قوت کو ڈرونز اور جنگی ٹیکنالوجی فروخت کر رہا ہے۔ اگر امریکہ صرف جذبے سے ہار گیا تھا، تو وہ اس “جذبے اور ٹیکنالوجی” کے خطرناک امتزاج کا سامنا کیسے کرے گا؟
امریکہ اور اسرائیل کی فضائی برتری اور “ناقابلِ تسخیر” ہونے کا دعویٰ خاک میں مل چکا ہے

امریکہ اور اسرائیل کی فضائی برتری اور “ناقابلِ تسخیر” ہونے کا دعویٰ خاک میں مل چکا ہے۔ ایران نے غیر متناسب جنگ کے ذریعے ثابت کیا کہ جب ہزاروں سستے ڈرونز اور میزائل ایک ساتھ برستے ہیں، تو اربوں ڈالر کا “آئرن ڈوم” بھی جواب دے جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی اس وقت “وڑ جاتی ہے” جب دشمن سامنے سے لڑنے کے بجائے گوریلا وارفیئر، سرنگوں اور پروکسیز کا جال بچھا دے۔امریکہ کی تزویراتی شکست کا سب سے بڑا ثبوت اس کا اپنے بدترین حریف روس کے تیل پر سے عارضی پابندی ہٹانا ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ ایران سے الجھ کر عالمی معیشت کو تیل کے بحران سے نہیں بچا سکتا۔ امریکہ اب اپنے دشمن (روس) کو مالی طور پر مستحکم کرنے پر مجبور ہے تاکہ اسرائیل اور اس کا اپنا گھر معاشی طور پر نہ ڈوبے۔ یہ “سانپ کو دودھ پلانے” والی پالیسی مستقبل میں امریکہ ہی کا گھیرا تنگ کرے گی۔سعودی عرب نے ماضی میں خطے میں اثر و رسوخ کے لیے جیش الاسلام (شام) اور لبنان میں مستقبل موومنٹ جیسے گروہوں کی سرپرستی کی، لیکن امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ان سے ہاتھ کھینچنا اب ان کے لیے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اپنی پراکسیز (حزب اللہ، حوثی، حماس) کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، جس کی وجہ سے آج مشرقِ وسطیٰ میں ایران کا پلڑا بھاری ہے۔
عالمی تجارتی راستوں کا بلا شرکتِ غیرے “تھانیدار” ہے، تنگنائے ہرمز میں ایرانی برتری نے اس کی دھجیاں اڑا دی ہیں

امریکہ اپنے سب سے بڑے سپورٹرز (خلیجی ممالک) کو تحفظ دینے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔مسلم دنیا کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ عرب ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکہ کو جو فوجی اڈے فراہم کر رکھے ہیں، وہ درحقیقت صیہونی ریاست (اسرائیل) کو “ڈیفنس شیلڈ” فراہم کر رہے ہیں۔ جب بھی ایران یا حماس جوابی وار کرتے ہیں، یہی اڈے اسرائیل کا دفاع کرتے ہیں۔قبلہ اول کی بے حرمتی اور فلسطینیوں پر مظالم کے دور میں عرب حکمرانوں کا یہ رویہ انہیں مذہبی اور سیاسی طور پر مردہ کر رہا ہے، جبکہ ایران “مظلوم کا چیمپئن” بن کر ابھر رہا ہے۔ مسلمان ہمیشہ ظالم کو مارنے والے کی ہی حمایت کریں گے۔امریکہ کا یہ دعویٰ کہ وہ عالمی تجارتی راستوں کا بلا شرکتِ غیرے “تھانیدار” ہے، تنگنائے ہرمز میں ایرانی برتری نے اس کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔امریکہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس کے بحری بیڑے اور جدید ترین جنگی جہاز سمندروں پر راج کرتے ہیں، لیکن ایران نے محض چھوٹی کشتیوں، سمندری بارودی سرنگوں اور ساحلی میزائلوں کے ذریعے ثابت کر دیا کہ وہ جب چاہے دنیا کی 20 فیصد سے زائد تیل کی سپلائی لائن کو سیکنڈوں میں بند کر سکتا ہے۔امریکہ اس قدر خوفزدہ ہے کہ وہ ایران کو چھیڑنے کی جرات نہیں کر رہا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر تنگنائے ہرمز بند ہوئی تو عالمی معیشت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا اور امریکہ کا سپر پاور ہونے کا بھرم ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا۔ یہ ایران کی وہ تزویراتی برتری ہے جس نے امریکی ٹیکنالوجی کو سمندروں میں بھی “خوار” کر کے رکھ دیا ہے۔پاکستان اس وقت براہِ راست اس جنگ کے منفی اثرات بھگت رہا ہے۔ پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں عوامی صبر کا پیمانہ لبریز کر رہی ہیں۔ ہمارے حکمران، جو اقتدار کی لذت و ذلت دونوں سے واقف ہیں، جانتے ہیں کہ اگر خلیج اس آگ کی لپیٹ میں آئی تو ان کا اقتدار ریت کی دیوار ثابت ہوگا۔ جب معیشت کچن تک پہنچتی ہے تو پھر عوام عالمی حالات نہیں بلکہ حکمرانوں کا گریبان دیکھتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں پہلے روس بکھرا تھا، اب امریکہ پھنسا ہوا ہے۔ اس کی حالیہ کامیابیاں باطنی اور وقتی ہو سکتی ہیں، لیکن وہ یہاں سے خوار ہو کر ہی نکلتا نظر آ رہا ہے۔
🚨 بڑی خبر: سرگودھا میں 200 سالہ تاریخی ورثہ مٹی میں ملا دیا گیا!


