​کوٹلی ہسپتال میں بیٹی کی بے بسی: ماں کا وہ ڈر جو سچ ثابت ہوا! | ایک دلخراش کہانی

کوٹلی آزاد کشمیر کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک بیٹی اپنی ماں کے بچھڑ جانے کے غم میں بیٹھی ہے۔

کوٹلی آزاد کشمیر کے ڈسٹرکٹ ہسپتال کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک بیٹی اپنی ماں کے بچھڑ جانے کے غم میں بیٹھی ہے۔آنکھوں میں آنسو اور چہرے پر بے بسی صاف جھلک رہی ہے، اور اس کے پیچھے ایک ایسی کہانی بیان کی جا رہی ہے جو دل کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس لڑکی کی ماں نے بیماری کے عالم میں بار بار کہا تھا: “مجھے کوٹلی ہسپتال نہ لے کر جانا… وہاں سے میں زندہ واپس نہیں آؤں گی، کیونکہ وہاں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔” لیکن غربت اور مجبوری کے سامنے یہ خوف بھی ہار گیا۔ بیٹی کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ کسی بڑے یا مہنگے ہسپتال میں علاج کروا سکتی، اس لیے وہ اپنی ماں کو وہیں لے آئی جہاں علاج ممکن تھا۔ مگر بدقسمتی سے وہی ہوا جس کا خدشہ تھا—مناسب سہولیات اور بروقت توجہ نہ ملنے کے باعث ماں دنیا سے رخصت ہو گئی، اور بیٹی کی آنکھوں کے سامنے اس کا سب سے بڑا سہارا ہمیشہ کے لیے چھن گیا۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں عوام صحت کے نظام، سہولیات کی کمی اور حکومتی غفلت کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک آزاد کشمیر کے عوام اس بوجھ کو برداشت کرتے رہیں گے؟ تقریباً پچاس لاکھ آبادی والے اس خطے میں حکومتی ڈھانچہ ایسا ہے جیسے کسی بڑے صوبے کو چلایا جا رہا ہو، جہاں درجنوں وزراء، مشیر اور اضافی انتظامی اخراجات عوام کے کندھوں پر ڈال دیے گئے ہیں، جبکہ بنیادی سہولیات جیسے صحت اور تعلیم بدستور نظر انداز ہیں۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ مقامی حکومت کے ساتھ ساتھ بیرونی سیاسی اثر و رسوخ بھی ایک اضافی دباؤ بن چکا ہے۔ عوامی تاثر یہی ہے کہ یہ سسٹم صرف عوامی خدمت کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مفادات، بلیک میلنگ اور وسائل کے استعمال کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ جب وسائل کا بڑا حصہ انتظامی اخراجات پر خرچ ہو جائے تو ہسپتالوں، سکولوں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے کیا بچے گا؟یہ صورتحال صرف ایک علاقے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک خطرہ ہے۔ اگر عوام کا اعتماد ریاستی نظام سے اٹھ جائے تو اس کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔ یہ لاوا خاموشی سے پک رہا ہے، اور اگر اس کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے ملک کو متاثر کر سکتے ہیں۔اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان کی حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور ہنگامی بنیادوں پر اصلاحات (reforms) متعارف کروائے۔ غیر ضروری عہدوں کو ختم کیا جائے، وسائل کو براہِ راست عوامی سہولیات پر خرچ کیا جائے، اور صحت کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔ کیونکہ اگر ایک ماں کا ڈر سچ بن رہا ہے، تو یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔
❗ سوال یہ نہیں کہ یہ واقعہ کیوں ہوا،
❓ سوال یہ ہے کہ یہ کب تک ہوتا رہے گا؟

مہنگائی کا طوفان اور عوام پر قیامت: افتخار بٹ کا خصوصی کالم


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *