عصرِ حاضر کا ‘رنالڈ’ (ٹرمپ) اور عالمی امن کا مستقبل | خصوصی کالم

آج کی جدید دنیا، جو ٹیکنالوجی اور علم کے بل بوتے پر ایک “گلوبل ویلج” کی شکل اختیار کر چکی ہے

عصرِ حاضر کا ‘رنالڈ’ اور عالمی امن کا مستقبل / تحریر ملک توصیف احمد
​آج کی جدید دنیا، جو ٹیکنالوجی اور علم کے بل بوتے پر ایک “گلوبل ویلج” کی شکل اختیار کر چکی ہے، ایک عجیب اور تشویشناک صورتحال سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی سفارت کاری، جس کا اپنا ایک وقار اور تہذیب ہوتی ہے، اب گلی محلے کی لڑائیوں کی سطح پر آ چکی ہے۔ جب ایک سپر پاور کا سربراہ سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر سوشل میڈیا پر ایسی زبان استعمال کرے جیسے کوئی غیر سنجیدہ شخص سستے اور گھٹیا واٹس ایپ اسٹیٹس لگا رہا ہو، تو یہ محض ایک فرد کا پاگل پن نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بن جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ اشتعال انگیزیاں اور کھلی دھمکیاں طاقت کے نشے اور ہوش سے عاری سیاست کی بدترین مثال ہیں۔​تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہمیں صلیبی جنگوں کا ایک کردار رینالڈ ڈی چیٹیلن نظر آتا ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے اپنی ہوس، تکبر اور مسلسل وعدہ خلافیوں کی بدولت دنیا کو ایک ایسی خونی جنگ میں جھونک دیا تھا جس کا خمیازہ لاکھوں انسانوں کو بھگتنا پڑا۔ آج کا ‘رنالڈ’ بھی بالکل اسی ڈگر پر چل رہا ہے۔ کبھی بائبل لہرانا، کبھی دعائیہ تقریبات کا سہارا لینا اور کبھی پوپ سے اپیلیں کرنا دراصل ایک مصنوعی “مقدس جنگ” کا ماحول پیدا کرنے کی سازش ہے۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا بھر کے باشعور انسان رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر محبت، اخوت اور بھائی چارے کا ایک نیا عالمی بیانیہ تشکیل دے رہے ہیں، ٹرمپ اور ان کی کابینہ کی جانب سے جنگ کو مذہبی رنگ دینا نفرت کا ایک ایسا بیج بونا ہے جس کی کڑوی فصل آئندہ کئی نسلوں کو کاٹنا پڑے گی۔​بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ اب ایک ناقابلِ یقین اور ناقابلِ اعتبار شخصیت بن چکے ہیں۔ سفارت کاری کا بنیادی اصول اعتماد ہوتا ہے، لیکن ایران کا یہ کھلا اور سنگین الزام ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی آڑ میں ہمیشہ دھوکہ دیا گیا۔ ایران کے نزدیک، مذاکرات کا جھانسہ دے کر ان کی اعلیٰ قیادت اور امن کے سفیروں کو نشانہ بنایا گیا اور شہید کیا گیا۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ٹرمپ دراصل کوئی پائیدار جنگ بندی نہیں چاہتے۔ ان کی انا کا واحد تقاضا یہ ہے کہ ایران گڑگڑا کر معافی مانگے اور گھٹنے ٹیک دے، تاکہ پوری دنیا میں ٹرمپ کی “جے جے کار” ہو اور وہ فخریہ بتا سکیں کہ انہوں نے ایک ملک کو اپنے قدموں میں جھکا دیا۔​مگر دوسری جانب، ٹرمپ کو ایک ایسے فریق کا سامنا ہے جو اب مر مٹنے کو تیار کھڑا ہے۔ جب کسی قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ دشمن انہیں مذاکرات کی میز پر بلا کر دھوکے سے قتل کر دیتا ہے، تو پھر وہ مذاکرات پر اعتبار کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ ایران کی موجودہ قیادت اور عوام کے نزدیک امن کی بھیک مانگ کر یا دھوکے سے مارے جانے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں لڑ کر جان دے دیں۔ یہی وہ نفسیاتی اور جذباتی کیفیت ہے جو اس خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔​یہ بات اب کوئی راز نہیں رہی اور باشعور مسیحی برادری بھی اس حقیقت کا ادراک کر چکی ہے کہ موجودہ عالمی کشیدگی اور اسرائیل کے ساتھ مل کر لڑی جانے والی جنگ کسی بھی طرح عیسائیت کا پرچار یا دفاع نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک یہودی ریاست کے تحفظ اور پسِ پردہ معاشی مفادات کی جنگ ہے جسے نہایت چالاکی سے مذہب کا لبادہ پہنایا گیا ہے۔ سامراجی مقاصد کے حصول کے لیے مقدس جذبات کا یہ استحصال عالمی سطح پر ایک سنگین جرم ہے۔ ہیگل کا فلسفہ ہے کہ انفرادی خود غرضی بعض اوقات ارتقاء کا سبب بنتی ہے، لیکن جب کسی ایک شخص یا ریاست کی انا پوری دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے، تو وہ کوئی فلسفہ نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف ایک ناقابلِ معافی جرم بن جاتا ہے۔​دوسری جانب موجودہ ‘ورلڈ آرڈر’ کی منافقت بھی پوری طرح طشت از بام ہو چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ اب عملاً “اقوامِ خاموشاں” بن کر رہ گئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے کر اس کے وارنٹ جاری کرتی ہے، لیکن قانون کی بالادستی کا دعویدار امریکہ نہ صرف اس مجرم کو گلے لگاتا ہے بلکہ اسے مزید جنگی جرائم کے لیے اسلحہ اور پشت پناہی بھی فراہم کرتا ہے۔ جب منصف ہی قاتل کا شریکِ جرم بن جائے تو قانون اور انصاف کے عالمی اداروں کی حیثیت محض ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی ہزیمت اور عالمی دباؤ سے بچنے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے ‘ورلڈ فریڈم آرگنائزیشن’ جیسے متوازی عالمی ادارے کے قیام کا شوشہ چھوڑا جا رہا ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جو ادارے صرف ایک شخص کی انا اور صدارت کے بل پر کھڑے کیے جائیں، وہ ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ جیسے ہی صدارت کی کرسی ہلے گی، یہ عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو جائے گی۔​تاہم، اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید کی ایک بڑی کرن امریکی عوام کی بیداری ہے۔ 70 لاکھ سے زائد افراد کا سڑکوں پر نکلنا کوئی معمولی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک غیر معمولی عالمی ریفرنڈم ہے۔ یہ عوام کا وہ بپھرا ہوا سمندر ہے جو یہ بتانے نکلا ہے کہ دنیا کے جہاز کو ڈبونے کے لیے اس کا نالائق کیپٹن ہی کافی ہے جو اسے سیدھا ایک برفانی تودے سے ٹکرانے کی طرف لے جا رہا ہے۔ لیکن جہاز کے اصل مالکان اب جاگ چکے ہیں۔ وہ سمجھ گئے ہیں کہ اگر اس ‘کیپٹن’ کو فوری طور پر نہ بدلا گیا تو اس تباہی سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔​وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس نام نہاد عالمی نظام اور موجودہ دور کے ‘رنالڈز’ کی اصلیت کو پہچانے۔ انسانیت کا بقا اسی میں ہے کہ ہم جنگوں کو مذہبی تقدس دینے والوں اور سفارت کاری کی آڑ میں دھوکہ دہی کرنے والوں کے ہاتھ روکیں، اور دنیا کو امن، مکالمے اور برابری کی بنیاد پر آگے بڑھائیں۔

مہنگائی کا طوفان اور عوام پر قیامت: افتخار بٹ کا خصوصی کالم


تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں

#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

Share This

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *