سانگھڑ: پیٹرول بم کے خلاف شہریوں کا بڑا احتجاج، حکومت اور اتحادیوں کے خلاف شدید نعرے بازی
حکومت کے اتحادیوں پر بھی سخت تنقید،رات کی تاریکی میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کو عوام نے معاشی موت قرار دے دیا

رپورٹ:(سید ضیغم علی گیلانی )سانگھڑ میں پیٹرول بم کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے، حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی، حکومت کے اتحادیوں پر بھی سخت تنقید،رات کی تاریکی میں تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کو عوام نے معاشی موت قرار دے دیا، سانگھڑ میں احتجاج کے دوران حکومت سے فوری واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔تفصیل کے مطابق سانگھڑ ڈیموکریٹک الائنس اور جماعت اسلامی کی اپیل پر پریس کلب سانگھڑ کے سامنے بڑے احتجاجی مظاہرے میں سینکڑوں شہریوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کیا گیا ریکارڈ اضافہ دراصل غریب عوام پر معاشی بم گرانے کے مترادف ہے۔رہنماؤں جبار جوڻیجو، ظہیرالدین بابر، حاجی یامین قریشی، طفیل راجپوت، سلیم رضا داہری، دلبر نظامانی، عظیم رونجھو، یاسمین عظیم، جاوید انصاری، قاسم عادل لغاری، حسن لانڈر، سنی یوسفزئی، حبیب لغاری، امیر بخش بڙدی، سنی جوڻیجو، رشید راجپوت، اصغر مری اور قادر شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کا مزدور، ہاری، محنت کش، طالب علم اور چھوٹا تاجر پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے تو پیٹرول کو 260 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کو 520 روپے سے زائد کرنا عوام کی سانسوں پر وار کرنے کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے عوام سے جینے کا حق بھی چھیننا شروع کر دیا ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران صرف اقتدار بچانے میں مصروف ہیں جبکہ عوام کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، روزگار ختم ہو رہا ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہو گئی ہے، زرعی اخراجات دوگنا ہو چکے ہیں اور بازاروں میں ہر چیز آگ بن چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمرانوں کے اتحادی اور سیاسی حامی بھی اس عوام دشمن فیصلے کے برابر ذمہ دار ہیں کیونکہ خاموشی بھی ظلم کی حمایت ہے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ پورے ضلع تک پھیلایا جائے گا اور عوام ہر سطح پر اپنا جمہوری ردعمل دیں گے۔
ٹرمپ کے ہوائی قلعے اور سمندر کے تلخ حقائق: ‘سند یافتہ چھڈو’ کے خطاب کا مکمل پوسٹ مارٹم
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں فالو کریں
#MalikTouseefAhmed | #UrduPointPress

